مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی وزیر دفاع نفتالی بینت نے مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کی مقبوضہ اراضی پر زیر زمین سڑک کی تعمیر کی منظوری دے دی۔ خبررساں اداروںکے مطابق وزیر دفاع غرب اردن کے مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے میں توسیع کے لیے سرگرم ہیں۔ متنازع سڑک کی تعمیر کا مقصد یہود کی حفاظت کرنا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد فلسطینی شہری اسرائیلی بستی معلی ادومیم سے گزرے بغیر ازیم کے دیہات اور عنات، حزمی اور ال رام کے علاقوں کے درمیان آسکیں گے۔ سڑک کی تعمیر کے بعد اس ’ای ون ‘نامی علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے پر عمل شروع ہوجائے گا۔ گزشتہ ماہ اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس اور یہودی بستی معلی ادومیم میں ساڑھے 3ہزار مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے نفتالی بینت کا کہنا تھا کہ ہم صرف زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر خودمختاری ثابت کرکے دکھائیں گے۔ ادھر اسرائیلی واچ ڈاگ گروپ ’پیس ناؤ‘نے ان منصوبوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ پیس ناؤ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ زیر زمین سڑک کی منصوبہ بندی سے اسرائیل کو ادومیم کے آس پاس کے علاقوں میں دیواریں اوررکاوٹیں کھڑی کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ دیوار متنازع ہے اور اس سے فلسطینیوں کی حق تلفی ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل ان بستیوں کے گرد رکاوٹ تعمیر کرنے پر عمل نہیں کرسکا، کیوں کہ اس سے فلسطینیوں کا مغربی کنارے کے شمال سے جنوب تک رابطہ منقطع ہو جائے گا۔ تاہم متنازع سڑک سے اسرائیلی بستیوں کے ایک بہت بڑے حصے کے درمیان فلسطینی برادری الگ تھلگ علاقوں میں محدود ہوکر رہ جائیں گے۔ اس سے اسرائیل کو مشرقی بیت المقدس کے مقامات مکمل طور پر منقطع کرنے کا موقع ملے گا اور فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات بالکل معدوم ہوجائیں گے۔ ادھر صہیونی منصوبوں پر جرمنی کی طرف سے بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ گزشتہ ماہ برلن میں دفتر خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ برلن حکومت کو صہیونی اعلان پر گہری تشویش ہے، جس میں اسرائیل نے اہم اور حساس علاقے میں اپنی آبادکاریوں کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
فلسطینی علاقوں کو تقسیم کرنے کے نئے صیہونی منصوبے کا انکشاف
القمر
