27 افراد کی ہلاکتوں کے بعد پولیس حرکت میں آگئی، سندھ بلڈنگ کے افسران و ملازمین نے خود کو بچانے کیلئے بھاگ دوڑ شروع کردی
گرفتار ڈپٹی سرفراز جمیل، اسسٹنٹ ڈائریکٹر مقصود قریشی اور بلڈنگ انسپکٹر عرفان علی کو آج مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا، پولیس حکام
کراچی (کرائم رپورٹر)رضویہ میں عمارت گرنے کے حوالے سے تفتیش میں اہم پیش رفت،27افرادکی ہلاکتوں کے بعدپولیس حرکت میں آگئی،SBCAکے 3افسران گرفتار ، دیگر ملوث افسران وملازمین نے خودکوبچانے کیلئے بھاگ دوڑشروع کردی۔تفصیلات کے مطابق رضویہ پولیس کی جانب سے گلبہارنمبر2پلاٹ نمبر1/95پرقائم رہائشی عمارت گرنے کے واقع میں خواتین ،بچوں ،نوجوان اوربزرگوں سمیت 27افرادکی ہلاکتوں کی درج کی جانیوالی FIRنمبر94/2020بجرم دفعہ 322/ 119 / 337Hi/427/109/34درج کرنے کے بعدSBCAکے تین افسران کو گرفتار کر لیا، پولیس کے مطابق مقدمہ میں ملزم جاویدخان ولد محمدموسی کونامزدکیاگیاتھا،ذرائع کے مطابق گرفتارملزمان میں SBCAکے ڈپٹی سرفراز جمیل،اسٹنٹ ڈائریکٹرمقصودقریشی اوربلڈنگ انسپکٹرعرفان علی شامل بتائے جاتے ہیں،جبکہ گرفتارملزمان کوآج مقامی عدالت میں پیش کیاجائے گا،پولیس کاکہناہے کہ مقدمہ سرکاری مدعیت میں درج کیاگیاہے ،FIRکے متن کے مطابق مذکورہ عمارت جاویدنامی شخص کی ملکیت تھی جوپلاٹ نمبر401/95پرتعمیرکی گئی تھی اورملزم جاویدکنٹریکشن کاکام کرتاہے اورعمارت ٹوٹ پھوٹ کی شکارتھی،تاہم وقوعہ کے وقت پولیس کواطلاع ملی کہ عمارت گرنے کے وقع میں حنا غوری زوجہ عبدالحق غوری، حیدر ولد عبدالرشید، غلام علی ولد عطامحمدجوشدیدزخمی ہوئے تھے اور عباسی شہیداسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے، اوردیگرزخمی کوعلاج معالجہ جاری ہے ،پولیس کے پہنچنے پرمختلف اداروںکے کارکنان امدادی کام میںمصروف تھے۔واضح رہے کہ عمارت گرنے کے واقع پرکئی روزتک عمارت کے ملبے کے نیچے سے لاشیں دیرسے نکالنے کیخلاف علاقہ مکینوں کی جانب سے بھرپوراحتجاج کیاگیاجبکہ مظاہرین نے انتظامیہ اورایس بی سی اے کے کرپٹ افسران کیخلاف شدیدنعرے بازی بھی کی۔
رضویہ میں عمارت گرنے کے واقعہ میں اہم پیش رفت ایس بی سی اے کے 3 افسران گرفتار
القمر
