English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

لانڈھی کے سرکاری گوداموں میں پڑی ٗ لاکھوں من گندم خراب ہوگئی

القمر

محکمہ خوراک کے حکام کی سنگین لاپرواہی اور مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے
گندم کئی برس قبل خریدی گئی تھی جو گوداموں میں سڑ کر سیاہ ہوچکی ہے ٗ ہزاروں پھٹی ہوئی بوریاں کھلے آسمان تلے پڑی ہیں ٗ اربوں روپے کی لاگت سے خریدی گئی گندم اب استعمال کے قابل نہیں رہی ہے
محکمہ خوراک فلور ملز کو یہ خراب گندم فراہم کررہا ہے ٗ من پسند ملوں کو بھاری نذرانوں کے عوض صاف گندم دی جارہی ہے ٗ محکمہ خوراک نے صورتحال پر پراسرار خاموشی اختیار کررکھی ہے جواب دینے سے انکار کردیا
کراچی (نمائندہ خصوصی) کراچی سمیت سندھ بھر میں جہاں ایک طرف گندم کی کمی کے باعث آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے وہیں دوسری طرف محکمہ خوراک کے حکام کی سنگین اور مجرمانہ غفلت کے باعث لانڈھی کے سرکاری گوداموں میں لاکھوں من گندم خراب (مضر صحت) ہوگئی، بعض ملز کو مضر صحت جبکہ من پسند ملوں کو مبینہ بھاری نذرانوں کے عوض فراہم کی جانے لگی، صورتحال پر محکمہ خوراک کے اعلیٰ حکام نے چپ سادھ لی۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ خوراک سندھ میں بدانتظامی، مبینہ خرد برد کے بعد ایک اور سنگین ترین بے قاعدگی سامنے آئی ہے لانڈھی میں قائم سرکاری گوداموں میں لاکھوں من گندم نہ صرف خراب ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ مبینہ طور پر بھاری نذرانوں کے عوض من پسند فلور ملز کو صاف گندم کی بوریاں جاری کی جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کئی برس قبل خریدی گئی لاکھوں من گندم لانڈھی کے گوداموں میں سڑ چکی ہے، سروے کے مطابق گندم سڑ کر سیاہ ہو چکی ہے، جبکہ ہزاروں پھٹی بوریاں کھلے آسمان تلے پڑی ہیں جس میں سے بڑی مقدار میں گندم، مضر صحت ہوچکی ہے لانڈھی میں محکمہ خوراک کے تین گوداموں میں لاکھوں من گندم ذخیرہ کی گئی ہے جسے فروخت کرنے کے بجائے خراب کرنے کے لیے کھلے آسمان تلے چھوڑ دیا گیا ہے، بڑی مقدار میں گندم کے خراب ہونے سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگایا گیا ہے اربوں روپے کی لاگت سے خریدی گئی گندم ان گوداموں میں پڑی ضائع ہو رہی ہے قواعد کے تحت محکمہ خوراک پابند ہے کہ گودام میں موجود گندم کی لاکھوں بوریوں میں سے فلور ملز کو ایک ہی لاٹ سے جاری کرے گا ایک لاٹ مکمل ہونے کے بعد دوسری لاٹ سے گندم کی بوریاں جاری کی جائیں گی تاہم محکمہ خوراک کے افسران سیاسی سفارش اور مبینہ بھاری نذرانوں کے عوض فلور ملز کو ان کی مرضی کی گندم کی بوریاں جاری کر رہے ہیں، محکمہ خوراک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 2013ء میں خریدی گئی گندم کی بوریاں گودام میں پڑی ہیں جبکہ اس کے بعد خریدی گئی گندم جاری کی گئی ہے محکمہ خوراک کو اس اسکینڈل کے ذریعے کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے اور بااثر افراد کے دبائو پر محکمہ خوراک قومی خزانے کے اس ضیاع کو روکنے میں ناکام ہے۔ اس ضمن میں صوبائی وزیر خوراک ہری رام نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ لانڈھی گودام نمبر3 میں پڑی گندم کا ٹینڈر کیا جائے گا خراب گندم بھی پولٹری فارمرز خرید لیتے ہیں تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ لاکھوں بوریوں کی خرابی کا ذمہ دار کون ہے تو انہوں نے کہاکہ تحقیقاتی ادارے اس کا تعین کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے