سندھ ہائیکورٹ نے سندھ پولیس اور دیگر حکام کو تمام لاپتا افراد کی فوری بازیابی کا حکم دے دیا جب کہ حکومت کوایس ایس پی ڈاکٹررضوان کےخلاف غیرقانونی اقدام سےروک دیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی تو فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے سندھ پولیس اور دیگر حکام کو تمام لاپتا افراد کی فوری بازیابی کا حکم دے دیا۔
عدالت نے اس متعلق سندھ حکومت ،آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز اور دیگر سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لی۔
عدالت نےسندھ حکومت کوایس ایس پی ڈاکٹررضوان کےخلاف غیرقانونی اقدام سےروکتے ہوئے ہدایت دی کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ پرڈاکٹررضوان کیخلاف کارروائی نہ کی جائے۔
دوران سماعت جسٹس محمدعلی مظہرنےایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سےاستفسار کیا کہ جواب جمع کرارہےہیں یا نہیں، کیاآئی جی سندھ کوپتا ہےانکےکسی پولیس افسرکیخلاف سندھ حکومت انکوائری کررہی ہے؟وہاں پولیس سےلوگوں کوشکایت ہوتی ہےمگرایسی انکوائری نہیں ہوتی۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ڈاکٹررضوان پوسٹنگ کےانتظارمیں ہیں،فی الحال سی پی اوآفس رپورٹ کرنےکاکہاہے، انکوائری کمیٹی نےڈاکٹررضوان کا موقف لینےکیلیےبلایاتھا،وہ نہیں آئے، ایس ایس پی کےخلاف کوئی ایکشن کیاگیانہ شوکازنوٹس دیاگیا۔
