اسلام آباد( نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے 20 ہزار گھروں کی تعمیر کے 7 منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔اس حوالے سے اسلام آباد میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر جگہ تنقیدہوتی ہے کہ کدھر ہیں گھر؟ کہاں ہے ہاؤسنگ اسکیم؟ یہاں تک پہنچنے میں ہمیں ڈیڑھ سال لگا۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں بھی تنقیدکی گئی کہ کہاں ہے گھر؟ کہاں ہے نیا پاکستان؟ ہاؤسنگ اسکیم کے لیے اتھارٹی بنانی پڑی، اسٹرکچربنانا پڑا، یہ 20 ہزار گھر 5 سال میں 50 لاکھ گھربنانے کا آغاز ہیں، ماسٹرپلان بنارہے ہیں کہ شہر کے اردگرد گرین ایریا ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ اِس وقت شرح سود کافی زیادہ ہے جو زیادہ مہنگائی کی وجہ سے رکھی گئی لیکن اب اعداد وشمار بتا رہے ہیں کہ مہنگائی کم ہورہی ہے تو شرحِ سود بھی نیچے آئے گی اور لوگ آسانی سے قرضے لے کر مکان بناسکیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ شہروں کے پھیلاؤ سے آلودگی اور اناج کے مسائل پیدا ہورہے ہیں، وسط میں کچی آبادیاں ہیں، اس کے لیے بھی منصوبے لارہے ہیں، سرپرچھت لوگوں کی بنیادی ضرورت ہے، آگے فوڈ سیکورٹی کا ایشو بھی آنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عورت مارچ میں ثقافتی تضاد ابھر کر سامنے آگیا، اس کی وجہ دہرے تدریسی نظام ہے، آئندہ برس تمام اسکولوں اور مدارس کے لیے ایک نصاب آجائے گاتاکہ ایک کلچر ہو۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نچلے طبقے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے اخوت فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، ہیلتھ کارڈکے بعداگلا قدم اسپتالوں کے نظام میں بہتری لانا ہوگا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی نے سڑکوں پر سوئے لوگوں کے بارے میں نہیں سوچا لیکن ہماری حکومت نے ان سڑکوں پر سوئے لوگوں کے لیے پناہ گاہیں بنائیں، ملک بھر میں 160 پناہ گاہیں کام کررہی ہیں، غریب اور مجبور لوگوں کے لیے لنگرخانے کام کررہے ہیں۔
وزیراعظم نے 20 ہزار گھروں کی تعمیر کا سنگ بنیار رکھ دیا
القمر
