لاہور (نمائندہ جسارت) پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکز ی صدر چودھری سرفراز، سید سجاد اکبر کاظمی، رانا لیاقت علی و دیگر نے سیکنڈری اسکول ایجوکیٹرز ریگولرائزیشن موومنٹ پنجاب کے 2 اپریل کو پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر تعلیم پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری اسکولز پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکنڈری سکول ایجوکیٹرز کو پنجاب پبلک سروس کمیشن کے بغیر فوری مستقل کیا جائے۔ سیکنڈری اسکول ایجوکیٹرز اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز باقاعدہ این ٹی ایس ٹیسٹ اور محکمانہ انٹرویوز پاس کرنے کے بعد بھرتی ہوئے، ان کے کنٹریکٹ آرڈرز میں کہیں بھی مستقلی کے لیے پنجاب پبلک سروس کمیشن کی شرط نہ لکھی گئی تھی۔ اب جبکہ انہیں بھرتی ہوئے پانچ چھے سال کا عرصہ گزر چکا ہے تو اچانک ریگولرائزیشن ایکٹ 2018ء میں ترمیم کرکے سیکنڈری اسکول ایجوکیٹرز کی مستقلی کے لیے پنجاب پبلک سروس کمیشن انٹرویو کی شرط عائد کردینا نا انصافی ہے۔ اس غاصبانہ ترمیم نے ہزاروں سیکنڈری اسکول ایجوکیٹرز کو بے چینی و اضطراب میں مبتلا کردیا ہے۔ لہٰذا پنجاب ٹیچرز یونین کے تمام ضلعی و ڈویژنل اور مرکزی عہدیداران سیکنڈری اسکول ایجوکیٹرز ریگولرائزیشن موومنٹ پنجاب کے یک نکاتی مطالبے کی بھرپور حمایت اور 2 اپریل کو پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج میں اپنی بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں
سیکنڈری اسکول ،ایجوکیٹرز کو پنجاب پبلک سروس کے بغیر مستقل کیا جائے،چوہدری سرفراز
القمر
