کورونا وائرس کی ابتدا دسمبر 2019 میں چین کے صوبہ ووہان سے شروع ہوئی تھی اب تک یہ موذی وائرس دنیا کے 118 ممالک تک پہنچ چکا ہے جبکہ اس سے دنیا بھر میں ایک لاکھ 19 ہزار 500 سے زائدافراد متاثر ہو چکے ہیں یہ تعداد دبن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ کورونا وائرس کا دائرہ اب کم و بیش دنیا کے تمام ممالک تک پھیل گیا ہے۔چین میں ایک لاکھ سے زائد افراد کو اپنی لپیٹ میں لینے اور تین ہزار سے زائد اموات کے بعد اب اسکا خوفناک سایہ براعظم ایشیا نے نکل کر یورپ و امریکہ تک پھیل گیا ہے۔اس وقت چین کے بجائے اٹلی میں سب سے زیادہ مریض سامنے آ رہے ہیں جب کہ امریکا میں بھی معمول اور اندازوں سے زیادہ مریضوں کے سامنے آنے سے وہاں بھی خوف پھیل چکا ہے۔اٹلی میںکورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 10 ہزار دو سو تک جا پہچی ہے جبکہ امریکا میں مریضوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس جان لیوا بیماری کا شکار عام لوگوں سے لیکر سربراہان مملکت تک ہو رہے ہیں۔جرمنی، ، اسپین، سوئٹزر لینڈ، ناروے، نیدرلینڈ، سویڈن، بلیجیم، ڈنمارک اور آسٹریا جیسے ممالک میں مسلسل کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ایران،امریکہ،اٹلی،فرانس، برطانیہ اور کینیڈا سمیت اہم ترقی یافتہ ممالک کے اہم ترین لوگ اس وائرس کی زد میں آگئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوری طور پر اس کا علاج کسی کے بس کی بات نہیں ہے لیکن احتیاط ہی ایک ایسا علاج ہے جو اس وائرس سے نجات اور تحفظ کیلئے لازمی کہا جا سکتا ہے۔یورپ میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے اٹلی پہلے نمبر پر آتا ہے، دوسرے نمبر پر فرانس، تیسرے نمبر پر اسپین، چوتھے پر جرمنی اور پانچویں نمبر پر سوئٹزرلینڈ ہے جہاں یہ کیس بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اہلیہ کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کردی۔جسٹن ٹروڈو نے اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر لکھا کہ بدقسمتی سے صوفی کے کورونا وائرس کے نتائج مثبت آئے ہیں، اس لیے انہیں فی الحال قرنطینہ کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خود سے ملاقاتیں کرنے والے افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ شاید وہ بھی وائرس سے متاثر ہیں۔اگرچہ امریکی صدارتی دفتر کے کسی ملازم یا ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی عہدیداروں میں وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی، تاہم امریکی صدر نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران غیر ملکی عہدیداروں سمیت امریکی عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔تاہم اب رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جن افراد سے ملاقاتیں کیں ان میں سے کچھ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد امریکی صدر بھی تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ امریکا میں صورتحال بہت تشویشناک دکھائی دیتی ہے جہاں کورونا وائرس کا شکار مریضوں کی تعداد 1100 سے تجاوز کر گئی ہے 32 افراد کی اموات کے بعد امریکہ میں بہت زیادہ خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ امریکہ کے مختلف شہروں میںکورونا وائرس کے خوف کی وجہ سے میوزیکل پروگرامات منسوخ کردیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی شہروں کی مارکیٹس بھی بند کردی گئیں ہیں۔امریکی ریاست نیویارک میں تو کورونا وائرس کے احتیاطی تدابیر کے پیش نظر قرنطینہ میں موجود افراد کی حفاظت اور انہیں اشیا پہنچانے کے لیے فوج سے کام لیا جا رہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں کس قدر خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے۔جنوبی ایشیا میں جہاں کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار دیگر خطوں سے کم ہے، وہیں اس خطے میں اس مرض سے ہلاکتیں بھی بہت کم ہوئیں اور اس خطے میں کورونا وائرس کے صرف 4 مریض ہلاک ہوئے ہیں جن کا تعلق بھارت سے ہے۔جنوبی ایشیا کے علاوہ افریقہ اور مشرق وسطی میں بھی کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار اتنی تیز نہیں جتنی امریکا اور یورپ میں ہے۔اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ہمارے ملک پاکستان میں اس وائرس سے زیادہ خطرات لاحق نہیں ہیں تاہم ہمیں نہایت سنجیدگی کے ساتھ احتیاط کا دامن اور پیشگی اقدامات پیش نظر رکھنا ہوں گے۔اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت نے اسے ساری دنیا کے لئے خطرناک قرار دیتے ہوئے اس کی روک تھام اور موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے،چین کی حکومت نے کمال ہوشمندی اور سچی لگن کے ساتھ کورونا وائرس کا مقابلہ کیا ہے اور اپنے کروڑوں لوگوں کی زندگی محفوظ بنانے کیلئے شبانہ روز محنت کی ہے جس کی بدولت اب ہم دیکھتے ہیں کہ چین میں کورونا وائرس کا زور تقریبا ٹوٹ چکا ہے جب کہ اس کے بعد سب سے زیادہ جن ممالک میں اس وبا نے نقصان کیا ہے ان میں ایران،اٹلی،برطانیہاور کوریا کے نام شامل ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس دنیا بھر میں پھیلنے کا خطرہ موجود ہے۔عالمگیر وبا قرار دیا جانے والا کورونا وائرس کایہ مرض دنیا کے دیگر ممالک کو مسلسل اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔عالمی معیشت کو شدید نقصانات کا سامناہے جس کا اندازہ کھربوں ڈالرز میں کیا جا رہا ہے۔ تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی سٹاک مارکیٹیں تاریخ میں پہلی بارشدید مندے کا شکار نظر آتی ہیں۔طلب و رسد میں کمی اور دیگر عوامل عالمی منڈیوں میں معاشی بحران کا سبب بن رہے ہیں بہت سے ایسے ممالک ہیں جوغیر ملکیوں کی آمد و رفت پر پابندی عائد کرچکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے ملازمین کو ایک جگہ معمول کے مطابق کام کرنے کی بجائے یہ ہدایت دینے پر مجبور ہیں کہ وہ گھر پر بیٹھ کر کام کریں تاکہ اس موذی وائرس کا شکار ہونے سے محفوظ رہا جا سکے۔ڈبلیو ایچ او کی جانب سے عالمگیر وبا کی اصطلاح ‘کسی نئے مرض کے دنیا بھر میں پھیلنے’ پر استعمال کی جاتی ہے اور اس کا تعین کسی مرض کے جغرافیائی بنیاد پر پھیلنے، اس کی شدت اور معاشرے پر اس کے اثرات کے تحت کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ نے کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کی وجہ سے عالمی معیشت میں کساد بازاری پر خبردار کردیا۔اقوام متحدہ کی تجارت برائے ترقی کے رچرڈ کوزول رائٹ نے واضح کیا تھا کہ رواں برس عالمیا معیشت کو 10 سے 20 کھرب ڈالر کے درمیان نقصان پہنچ سکتا ہے۔کورونا وائرس کو کو شکست دینے اور اس بیماری کی روک تھام کیلئے ساری دنیا کے ماہرین طبیعات کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور جلد سے سے جلد اس کی مناسبتشخیص اور علاج دریافت کرنا ہوگا تاکہ اقوام عالم کو اس مہلک وائرس کے اثرات سے محفوظ کیا جا سکے۔اس سے قبل بھی سوائن فلو،طاعون اور کانگو وائرس جیسے عالمی وبائیں انسانی جانوں کیلئے شدید خطرات کا باعث بن چکی ہیں لیکن کورونا وائرس نے تو انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کو بھی چاروں شانے چت کر دیا ہے جس کا مقابلہ ساری دنیا کو مل کر کرنا ہوگا۔
کورونا وائرس ،معیشت اور زندگی کو لاحق خطرات، نعیم صدیقی
القمر
