نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں جنگی صورت حال مسلسل خوف ناک ہوتی جا رہی ہے۔ گریفتھس کا کہنا ہے کہ یمن کے شمال میں بعض علاقوں میں حالات باعث تشویش ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں خاندان نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ مارٹن گریفتھس نے عالمی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ یمن اس وقت نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ وہ یا تو جارحیت میں کمی اور سیاسی عمل کے دوبارہ آغاز کی جانب جائے گا اور یا پھر مجھے اندیشہ ہے کہ زیادہ بڑے پیمانے پر تشدد اور مسائل کا سامنا ہو گا۔ یہ صورت حال مذاکرات کی میز کی جانب جانے والی راہ کو زیادہ دشوار بنا دے گی۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے مطابق عسکری جارحیت یمن کو تشدد کے ایک نئے گڑھے میں کھینچ کر لے جا سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انسانی اور سیاسی صورت حال پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ گریفتھس نے یمن کے صوبوں مآرب، الحدیدہ، الضالع، شبوہ، تعز اور صعدہ میں جاری لڑائی کی جانب بھی توجہ دلائی۔ الحدیدہ میں مرکزی بندرگاہ کے ذریعے یمن کی تجارتی اشیا اور انسانی امداد کا 70 فیصد حصہ درآمد کیا جاتا ہے۔ یمن کی کل آبادی 2.6 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ 2014ء میں ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے آئینی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے یمن کو جنگ کا سامنا ہے۔ باغیوں نے دارالحکومت صنعا اور دیگر کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
یمن میں جنگی صورتحال مسلسل خراب ہورہی ہے،اقوام متحدہ
القمر
