نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) دہلی کی ریاستی پارلیمان میں مودی سرکار کے متنازع شہریت قانون کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق بھارت میں مسلم کش فسادات کی وجہ بننے والا متنازع قانون دہلی اسمبلی نے بھی مسترد کردیا۔ متنازع قانون کے خلاف قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی گئی۔پارلیمان میں یہ قرارداد جمعہ کے روز منظور کی گئی۔ دہلی حکومت نے اس پر بحث کے لیے خصوصی اجلاس بلایا تھا۔ وزارت محنت گوپال رائے نے دہلی میں این پی آر لانے کے خلاف قرارداد پیش کی، جسے بحث کے بعد منظور کرلیا گیا۔ اب ریاست دہلی میں قومی آبادی رجسٹریشن ’’این پی آر‘‘ کو نافذ نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ ان کے اور ان کی اہلیہ اور ان کے ماں باپ کے پاس بھی برتھ سرٹیفییٹ نہیں ہے۔ انہوںنے کہا ہے کہ 70 ارکان اسمبلیوں میں سے 9 ارکان نے کہا ہے کہ ان کے پاس برتھ سرٹیفکیٹ ہے، جب کہ 61 کا کہنا ہے کہ ان کے پاس یہ نہیں ہے تو کیا ان سبھی کو حراستی مراکز بھیج دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ دہلی اروند کیجریوال نے سوال اٹھایا کہ 90فیصد بھارتیوں کے پاس بھی برتھ سرٹیفکیٹ نہیں ہے تو کیا 90 فیصد بھارتیوں کو حراست میں لیا جائے گا؟ کیجریوال نے کہا کہ 11 ریاستوں میں بھی این پی آر اور (این سی آر) کا نفاذ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہا کہ مرکزی حکومت کو این پی آر اور این آر سی واپس لینے چاہییں۔ انہوںنے کہا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ این پی آر میں کوئی دستاویز نہیں مانگی جائے گی۔ انہوں نے یہ نہیں کہا ہے کہ این آر سی میں دستاویز نہیں مانگی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس غلط فہمی میں مت رہنا کہ این آر سی پر عمل نہیں ہوگا۔ پہلے این پی آر ہوگا اور اس کے بعد این آر سی نافذ کرایا جائے گا۔ صدر رام ناتھ کووند اور شاہ نے واضح کیا تھا کہ این آر سی ہوکر رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ متنازع شہریت کا خوف سب کو پریشان کررہا ہے۔ دہلی پارلیمان نے متنازع قانون کو اقلیتوں کے خلاف قرار دے دیا۔ یاد رہے کہ بھارت کے شہر نئی دہلی میں گزشتہ ماہ اچانک ہندو انتہا پسندوں نے متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہرے کرنے والے مظاہرین پر حملے کیے اور مسلمانوں کے گھر بھی نذر آتش کیے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں اب تک پولیس اہل کار سمیت 50 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ انٹرنیٹ پر کئی ایسی وڈیوز اور تصاویر سامنے آئیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہندو انتہا پسندوں کو پولیس کی مکمل سرپرستی حاصل ہے اور وہ انہیں روکنے کے بجائے مظاہرین پر تشدد کررہے ہیں۔
دہلی پارلیمان نے بھی شہریت بل مسترد کردیا
القمر
