بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق میں دارالحکومت بغداد کے قریب بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب امریکی فوجی اڈے تاجی پر راکٹ حملوں کے بعد مقامی ایرانی نواز ملیشیاوں کے ٹھکانوں پربمباری کی گئی ہے، جس میں ایک عراقی شہری اور 5 سیکورٹی اہل کار ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے، جب کہ اسلحہ اور گولہ بارود کی بڑی مقدار بھی تباہ ہوگئی۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگان نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے عراق میں ایرانی نواز ملیشیا کے 5 اسلحہ ذخائربمباری سے تباہ کردیے ہیں۔ ان میں وہ اسلحہ مرکز بھی شامل ہے ، جو ماضی میں امریکا کے خلاف حملوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ پینٹاگان نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے پورے عراق میں حزب اللہ کے مراکز پر دفاعی حملے کیے ہیں۔ یہ تنصیبات عراق میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملوں میں استعمال کی جاتی تھیں۔خیال رہے کہ تاجی ائربیس پر راکٹ حملوں کے نتیجے میں 2 امریکی اور ایک برطانوی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔ عراقی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی حملے میں 4 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے جنگی طیاروں کے ذریعے کیے گئے۔ پینٹاگون کے مطابق امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایسے حملے دوبارہ بھی کر سکتا ہے۔ ایسپر کا مزید کہنا تھا کہ امریکا عراق اور خطے کے دیگر ممالک میں تعینات فوج کے تحفظ کے لیے کسی کارروائی سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ حالیہ مہینوں میں یہ تیسرا موقع ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی فوج نے دسمبر میں تنظیم کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا، جس میں 2 درجن سے زائد جنگجو ہلاک ہو گئے تھے۔
امریکا کی جوابی کارروائی ،عراقی شہری اور 5 فوجی ہلاک
القمر
