لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے اپنے ایک بیان میں آٹا چینی بحران کے ذمے داروں کے حوالے سے وفاقی حکومت کی کارروائی کو محض ’’آئی واش‘‘ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ کابینہ میں ردو بدل بیماری کا علاج نہیں ،بحران کے ذمے دار منافع خوروں اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔جن سرکاری کمیٹیوں نے پالیسی بنائی تھی ، وہ بھی آٹا چینی کے بحران میں شامل ہیں ۔ سبسڈی اور منافع میں جو پیسہ کمایا گیا واپس لے کر کورونا فنڈ میں جمع کیا جائے ۔ علاوہ ازیں جے آئی کسان کے صدر چودھری نثار احمد سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پورے ملک میں گندم کی کٹائی کا آغاز ہو چکا ہے مگر کورونا جیسی مہلک آفت سے کسانوں کو بچانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں ہیں۔ موجودہ حالات میں کسانوں کو درپیش مسائل فوری طور پر حکومتی توجہ کے منتظر ہیں ۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کسانوں کو فوری طور پر حفاظتی سامان فراہم کیا جائے اور گندم کو سمیٹنے میں ا ن کی مدد کی جائے ۔گندم ہمارے ملک کی فوڈ سیکورٹی کے لیے بہت اہمیت کی حامل اور کسان کے لیے سب سے بڑی کیش کراپ ہے۔ حکومت کسان سے گندم کے آخری دانے تک خریداری کا بندوبست اورکسانوں سے گندم1500 روپے من کے حساب سے خریداری کا اعلان کرے۔ آ ٹے اور چینی کے ذمے داروں سے سبسڈی کی رقم وصول کر کے اس کے اصل حقدار کسانوں اور مزدوروںمیں تقسیم کی جائے۔ملک میں زرعی ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے زراعت کے لیے کسانوں کے نمائندوں کی مشاورت سے زرعی پالیسی کا اعلان کیا جائے۔ 12 سو ارب امدادی رقم میں سے کسانوں کو بھی ان کا حصہ دیا جائے ۔ شوگر ملز مافیا سے رواں اور سابق سالوں کی گنے کے کاشتکاروں کی رقوم فوری طور پر دلائی جائیں ۔کسانوں کو آئندہ فصلوں کی کاشت کے لیے بیج اورکھاد مفت مہیا کی جائے اور آبیانہ معاف کیا جائے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں اور ژالہ باری سے پورے ملک میں گندم کی تیار فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے جس نے کسان کی کمر توڑ دی ہے ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے گھروں میں محصور کسان اپنی سال بھر کی روز ی سے محروم ہوگئے ہیں۔گندم کی کم پیداوار اور تباہی سے ملک میں آئندہ سال خوراک کی کمی کا مسئلہ سر اٹھا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان حالات میں حکومت کا فرض ہے کہ کسانوں کے مسائل کی طرف فوری توجہ دے اور جو گندم تباہی سے بچ گئی ہے اسے سمیٹنے میں کسانوں کو درپیش مشکلات کو کم کرنے کے لیے حکومت ہر طرح کا تعاون کرے ۔گندم کی کٹائی کے لیے تھریشر اور ہارویسٹر وغیرہ کی فراہمی اور کسانوںکو باردانہ کی بروقت اور آسان دستیابی کو یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ بارشوں اور ژالہ باری کی وجہ سے کسانوں کو ہونے والے نقصانات کا فوری تخمینہ لگا کر اس کا ازالہ کیا جائے تاکہ کسان آئندہ فصل کی بوائی آسانی سے کرسکیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ کسانوں کو مڈل مین کے ظلم سے بچائے اور یونین کونسل کی سطح پر گندم خریداری کا ایک ہدف مقرر کرکے کسانوں سے گندم براہ راست خریدی جائے ۔دریں اثنا صدر الخدمت فائونڈیشن میاں عبدالشکور اور سیکرٹری جنرل شاہد اقبال کے 2 رکنی وفد نے منصورہ میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سے ملاقات کی ۔
کابینہ میں رد و بدل علاج نہیں،ذمے داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئیے،سراج الحق
القمر
