English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتیں 95 ہزار سے تجاوز کرگئیں،مزید64 ہزار کیسز رپورٹ

القمر

واشنگٹن /لندن/ میڈرڈ/روم/پیرس/ برلن/ تہران /نئی دہلی (رپورٹ مطیع اللہ +مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 95ہزار سے تجاوز کرگئیں جب کہ مزید 64نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔ اس طرح متاثرہ افراد کی تعداد بھی 16لاکھ سے زیادہ ہوگئیں۔ امریکااور برطانیہ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ ہورہی ہیں ۔ جمعرات کو امریکا ، فرانس اور برطانیہ میں سب سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ امریکا میں 1660، فرانس میں 1341 اور برطانیہ میں 881افراد ایک روز میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ اٹلی میں 610، اسپین میں 446، بیلجیم میں 283، سوئیڈن میں 106، جرمنی میں 102، ایران میں 117، ترکی میں 96، بھارت میں 48، اسرائیل میں 13اورچین میں 2افراد ہلاک ہوئے۔ مجموعی ہلاکتوں کے اعتبار سے اٹلی اب بھی سب سے آگے ہیں جہاں اب تک 18ہزار 279افراد ہلاک ہوئے ، اس کے بعد امریکا میں 16ہزار 203، اسپین میں 15ہزار 238، فرانس میں 12ہزار 210 ، برطانیہ میں 7ہزار 978ہلاک ہوئے۔ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے شاہی خاندان کے کم سے کم 150 افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔اگرچہ سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے 9 اپریل کی شام تک وہاں تقریباً 3 ہزار افراد کے کورونا میں مبتلا ہونے اور 41 افراد کے ہلاک ہونے کی بھی تصدیق کی گئی تھی تاہم حکومت نے کسی بھی شاہی خاندان کے فرد کے حوالے سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی۔نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے گورنر اور شاہی خاندان کے اہم فرد 70 سالہ شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز، السعود بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں اور ان کا انتہائی نگہداشت میں علاج کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز کا علاج کرنے والے ہسپتال کے ایک اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر نے 7 اپریل کو مذکورہ اسپتال کے دیگر ڈاکٹرز کو آن لائن پیغام بھیجا جس میں عملے کو ہدایات کی گئیں کہ اسپتال کو جلد سے جلد عام مریضوں سے خالی کیے جانے کے انتظامات کیے جائیں۔دوسری جانب اٹلی کے وزیر اعظم گوئسیپ کونٹے نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے بحران اور بڑھتی ہوئی اموات کے سبب یورپی یونین کی ناکامی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے