English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی: یوسیز کو عجلت میں سیل کرنیکا فیصلہ چند گھنٹے بعد واپس(ملک میں ہلاکتیں 86 ہوگئیں)

القمر

کراچی /اسلام آباد/لاہور/پشاور/کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر+مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ حکومت نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کراچی کی 11 یونین کونسلز کوعجلت میں سیل کرنے کا فیصلہ چند گھنٹے بعد واپس لے لیاجبکہ کورونا وائرس کے حوالے سے ملک میں ہفتے کا دن ہولناک رہا ،ایک ہی دن میں 15اموات اور 229نئے کیسز سامنے آگئے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق ہفتے کے روز کراچی کے ضلع شرقی کے ڈپٹی کمشنر نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 11 یونین کونسلز کو مکمل سیل کرنے کا حکم دیا تھا تاہم چند گھنٹے گزرنے کے بعد حکومت سندھ کی جانب سے انہیں یہ نوٹیفکیشن واپس لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر ایسٹ نے ایک وزیر کے کہنے پر یونین کونسل سیل کیں تاہم اس فیصلے پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اعتماد میں نہیں لیا گیا۔صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے کراچی میں یونین کونسلز مکمل سیل کرنے کا حکم واپس لینے کی ہدایت کردی ہے۔انہوں نے بتایا کہ جن گلی محلوں میں کورونا کیسز سامنے آئے ہیں، صرف انہیںسیل کیاجائے گا کیوں کہ اتنے بڑے علاقوں کو سیل کرنا عوام کے لیے تکلیف دہ ہوگا۔واضح رہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پش نظر ڈپٹی کمشنر شرقی (ایسٹ) نے کراچی کی11 یونین کونسل کو سیل کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر ایسٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے مختلف علاقوں کی11 یونین کونسلز کو سیل کردیا اور ہدایت کی کہ شہری گھروں پر ہی رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ یوسیز میں150 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اسی وجہ سے انہیں سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ علاقے میں رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی اور داخلی خارجی راستے بند کیے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر ایسٹ احمد علی کا کہنا تھا کہ کیسز زائد ہونے کی وجہ سے علاقوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، وہاں کے تمام شہریوں کا ٹیسٹ کیا جائے گا اور صورت حال بہتر ہوتے ہی پابندی اٹھا لی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ان یوسیز میں اشیائے خور و نوش اور ادویات کی ترسیل جاری رہے گی، کوشش کریں گے کہ مریض کو گھر پر رکھیں اگر ممکن نہ ہو سکا تو اسے قرنطینہ منتقل کریں گے۔ ڈپٹی کمشنر ایسٹ کے مطابق یوسی6 گیلانی ریلوے، یوسی7 ڈالمیا، یوسی8 جمال کالونی، یوسی9 گلشن 2، یوسی10 پہلوان گوٹھ، یوسی12 گلزار ہجری، یوسی13 صفورا، یوسی فیصل کینٹ، یوسی2 منظور کالونی، یوسی 9 جیکب لائن اور یوسی10جمشیدکوارٹرز کو مکمل بند کر دیا جائے گا۔ اس حوالے سے سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی یا سختی سے متعلق سندھ حکومت نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا، جیسے ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا اس کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کی11 یوسیز میں نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہوگی، متعلقہ یوسیز میں شہریوں کو صرف کھانے پینے کی اشیا اور ادویات خریدنے کے لیے گھروں سے نکلنے کی اجازت ہوگی۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ کورونا کیسز مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے یوسیز سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ میڈیا کے ذریعے یوسیز کو سیل کرنے کا پتا چلا، ایک میٹنگ ہوئی میرے خیال سے وہاں اسی معاملے پر گفتگو کی گئی ہوگی۔دوسری جانب کورونا وائرس کے حوالے سے ہفتے کا دن پاکستان کے لیے ہولناک دن رہا، ایک ہی دن میں 229 نئے کیسز اور 15 اموات رپورٹ ہوئیں۔پاکستان میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 86 ہوگئی جبکہ مزید نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5021 تک پہنچ گئی ہے۔ سندھ میں 28 اموات ہوچکی ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں 31 اور پنجاب میں21 اموات ہیں۔اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں 3 ، بلوچستان 2 اور اسلام آباد میں ایک فوتکی ہوئی ہے۔سندھ میں ہفتے کورونا کے مزید 104 کیسز سامنے آئے ہیں اور 6 اموات بھی ہوئی ہیں جس کے بعد صوبے میں مجموعی کیسز 1318 اور اموات 28 ہوچکی ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں مزید 104 کیسز اور 6 اموات کی تصدیق کی۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک مختصر وڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ سندھ میں مزید 104 لوگوں کے متاثر ہونے سے تعداد 1318 ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں 20 فیصد ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جو دنیا کی اوسط سے بھی زیادہ ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے 6 لوگ انتقال کرگئے۔صوبے میں اموات کی مجموعی تعداد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اب تک 28 لوگ اس وائرس سے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 919 لوگ ہمارے پاس زیر علاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹے اس مرض کے اعداد و شمار کے حساب سے کافی پریشان کن تھے اور یہ اچھی خبر نہیں ہے اور ہمیں مزید سخت لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔پنجاب میں کورونا وائرس کے 74 کیسز اور 3 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جس کی تصدیق محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔اس طرح پنجاب میں ہلاکتوں کی تعداد 21 ہوگئی ہے جبکہ صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 2410 ہوگئی ہے۔اس کے علاوہ پنجاب میں اب تک کورونا وائرس سے 39 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کا ایک کیس سامنے آیا ہے جس کی تصدیق وزیر صحت نے کی۔وزیرصحت نے بتایا کہ راولاکوٹ میں 4 سال کی بچی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہے اور بچی کے گھر میں پہلے بھی ایک شخص میں کورونا کی تصدیق ہوچکی ہے۔آزاد کشمیر میں مریضوں کی تعداد 34 ہوگئی ہے جو سرکاری پورٹل پر بھی رپورٹ کی گئی ہے۔خیبر پختونخوا میں ہفتے کے روز 41 نئے کیسز اور 6 ہلاکتیں ہوئیں۔صوبے میں کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 697 اور ہلاکتیں 31 ہوگئی ہیں۔صوبائی وزیر صحت تیمور خان نے صوبے میں ہلاکتوں اور نئے کیسز کی تصدیق کی۔تیمور خان نے بتایا کہ صوبے میں اب تک 142 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔بلوچستان میں مزید 8 نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 228 ہوگئی۔بلوچستان میں ابتک 95 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔ترجمان صوبائی حکومت لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ بلوچستان میں اب تک کورونا سے 2 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ اب تک 95 متاثرہ افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔اسلام آباد میں مزید کیسز سامنے آنے کے بعد شہر میں کورونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 118 ہوگئی ہے۔وفاقی دارالحکومت میں اب تک کورونا سے ایک مریض کا انتقال ہوا ہے۔گلگت بلتستان میں ایک کیس سامنے آیا جس کے بعد علاقے میں کیسز کی مجموعی تعداد216تک جا پہنچی ہے۔گلگت میں مہلک وائرس سے متاثرہ 146 مریض صحتیاب بھی ہوچکے ہیں جبکہ 3 افراد وفات پاچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے