کراچی(اسٹاف رپورٹر)میئر کراچی وسیم اخترنے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں وفاق اور سندھ حکومت کو کئی خط لکھے،متعدد بار رابطہ کیا لیکن دونوں حکومتوں کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ہمارے پاس ڈاکٹروں کی ٹیم، پیرامیڈیکل اسٹاف، انفرا اسٹرکچر، ساز و سامان اور58 وینٹی لیٹرز موجود ہیں لیکن انہیں موثر انداز میں استعمال نہیں کیا گیا، حکومت سندھ کو بہت کچھ کرنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔یہ بات انہوں نے ہفتے کو سرکاری اور نجی اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ، سی ای او اور مالکان کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن، ضیاء الدین اسپتال کے ڈاکٹر عاصم حسین، انڈس اسپتال کے ڈاکٹر عبدالباری،لیاقت نیشنل اسپتال کے ڈاکٹر سلمان فریدی ،مامجی اسپتال کے ڈاکٹر فاروق مامجی، پرائیویٹ اسپتال ایسوسی ایشن آف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کے چیئرمین ڈاکٹر طارق سہیل، اشفاق میموریل کے ڈاکٹر آصف، دارالا صحت کے ڈاکٹر علی فرحان چشتی، پٹیل اسپتال کے ڈاکٹر مظہر، سینئر ڈائریکٹر میڈیکل سروسز ڈاکٹر سلمیٰ کوثر، سینئر ڈائریکٹر کو آرڈینیشن مسعود عالم اور دیگر افسران نے شرکت کی۔میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی کے پاس 14 بڑے اسپتال ہیں،کراچی کی آبادی انہی اسپتالوں میں آتی ہے،ہم کو کورونا وائرس کے ٹیسٹ بڑھانے چاہییں،اس سلسلے میں نجی اسپتالوں سے بات کی گئی ہے 2 گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی اس میٹنگ میں اس بات پر گفتگو کی گئی کہ اس وائرس پر کیسے قابو پایا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کٹس نہیں ہیں اور نہ ہی اتنے وسائل ہیں کہ کٹس خریدتے، انڈس اسپتال کے ڈاکٹر عبد الباری نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ ٹیسٹ کٹس، حفاظتی لباس اور میڈیسن کی فراہمی میں تعاون کریں گے،ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر سلمان فریدی نے آئی سی یو اور لیباٹری کے سلسلے میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ فوری طور پر کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کی سہولت بڑھائی جاسکے۔میئر کراچی نے کہا کہ کراچی میں روزانہ 2500 سے 3000 کورونا ٹیسٹ کرائے جارہے ہیں جبکہ ٹیسٹ کٹس ملنے کے بعد اس صلاحیت کو 6000 تک لے جایا جائے گا۔ میئر کراچی نے کہا کہ ہم نے ان اسپتالوں کے سربراہان کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ کراچی کے لوگوں کی مدد کیسے کی جائے،لیب اور آئی سی یو ہمارے پاس موجود ہیں،مین پاور ہے، اسٹاف موجود ہے ہمیں صرف چند چیزوں کی ضرورت ہے تاکہ کراچی شہر کو اس مشکل سے نکالا جا سکے۔میئر کراچی نے کہا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے کے ایم سی کے زیر انتظام پرائیویٹ اسپتالوں کے تعاون سے 3 سینٹرز بنائے جارہے ہیں ان سینٹرز میں لانڈھی کارڈیک ایمرجنسی سینٹر، کراچی انسٹیٹیوٹ آف ڈیزیز کی نئی عمارت اور عباسی شہید اسپتال شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتہائی نگہداشت کے مریضوں کو عباسی شہید اسپتال کے آئی سی یو میں رکھا جاسکے گا، جہاں پر تربیت یافتہ ڈاکٹرز ان کا علاج کریں گے۔میئر کراچی نے کہا کہ ہماری پہلے دن سے یہ کوشش رہی ہے کہ کراچی کے لوگوں کے لیے کچھ کیا جائے لیکن وسائل نہ ہونے کے سبب بھر پور طریقے سے کام نہیں ہوسکا لیکن اب توقع ہے کہ بڑے پیمانے پر کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے خدمات انجام دے سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ان تینوں سینٹرز میں کورونا کا ٹیسٹ بالکل مفت ہوگا اور کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سندھ مشترکہ لائحہ عمل اپناتی تو نتائج اس سے کئی بہتر ہوتے لیکن اب ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں مختلف اداروں کے تعاون سے شہریوں کی جو خدمت ہوسکی وہ کریں گے۔
وفاق اور سندھ حکومت کورونا سے نمٹنے کیلئے سنجیدہ نہیں،میئر کراچی
القمر
