مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکومت کی طرف سے غزہ کی معاشی ناکابندی کے نتیجے میں ساڑھے 3 لاکھ فلسطینی محنت کش بے روزگار ہوگئے۔ فلسطینی عوامی کمیٹی کے سربراہ جمال خضری کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پابندیوں اور مسلسل ناکابندی کے باعث نہ صرف غزہ بلکہ غرب اردن میں بھی مزدوروں کے روزگار چھن گئے ہیں۔ کورونا وائرس نے فلسطینیوں کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کردیاہے۔ انہوں نے نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مزدور طبقے کی بحالی کے لیے خصوصی فنڈ قائم کرے، تاکہ غزہ اور دیگر علاقوں میں بے روزگاری کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کم کی جاسکیں۔
اسرائیلی پابندیوں کے نتیجے میں غزہ میں ساڑھے 3 لاکھ مزدور بے روزگار
القمر
