برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمنی کی ایک داخلی انٹیلی جنس رپورٹ میں نئے کورونا وائرس کی چینی شہر ووہان کی ایک لیبارٹری میں تخلیق کے امریکی دعووں پر شک و شبہے کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ الزام وبا سے نمٹنے میں غلطیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے لگایا گیا۔ جرمن جریدے ڈیئر اشپیگل میں شائع رپورٹ کے مطابق خفیہ ایجنسی بی این ڈی نے شواہد کے لیے امریکی قیادت میں فائیو آئیز نامی گروپ کے رکن ممالک سے بھی رجوع کیا، تاہم نیوزی لینڈ، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں سے کسی نے بھی اس الزام کی حمایت نہیں کی۔ یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اتوار کے روز کہا تھا کہ کورونا وائرس کی چینی لیبارٹری میں تخلیق کے بہت زیادہ ثبوت موجود ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کورونا وائرس کا پھیلائو روکنے میں ناکام رہنے پر عالمی ادارہ صحت کو مالی امداد فراہم کرنے سے متعلق جرمنی کی درخواست مسترد کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کورونا کی وبا روکنے کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں ادا کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ جرمنی کے روزنامہ سیوڈیوچے زیتونگ کے مطابق پومپیو نے اپنے جرمن ہم منصب ہائیکو ماس کے اس خط کا جواب دیا ہے، جس میں انہوں نے امریکا پر زور دیا تھا کہ وہ فنڈز منجمد ہونے کے باوجود کورونا کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے عالمی ادارہ صحت کی مدد کرے۔ پومپیو نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں امریکا ڈبلیو ایچ او کو سب سے زیادہ فنڈز فراہم کرتا رہا ہے جب کہ اس ادارے نے چین کے کمیونسٹ نظام کے ساتھ ساز باز کی جس کے نتیجے میں کورونا کیوبا پوری دنیا میں پھیل گئی۔
وائرس کی تخلیق سے متعلق امریکی الزام پر جرمنی کو شک
القمر
