کراکس (انٹرنیشنل ڈیسک) وینزویلا میں 2 سابق امریکی فوجیوں پر دہشت گردی کے ساتھ حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام عائد کردیا گیا ہے۔ مجرم ثابت ہونے کی صورت میں دونوں کو 30 برس تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اٹارنی جنرل طارق ولیم صاب نے ایک پریس کانفرنس میں دونوں امریکی فوجیوں پر الزامات عائد کیے جانے کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کی کہ یہ فوجی حکومت گرا کر اُس پر قبضہ کرنے کی کوشش میں تھے۔ طارق ولیم صاب نے امریکی فوجیوں کی شناخت کا بھی اعلان کیا۔ ان میں ایک 34 سالہ لیوک ڈینمین اور دوسرا 41 سالہ ائرن بیری ہیں اور یہ دونوں سابق امریکی فوجی ہیں۔ ان امریکی فوجیوں کو حکومت گرانے، دہشت گردی پھیلانے کے علاوہ غیر قانونی طور پر جنگی ہتھیاروں کو وینزویلا پہچانے اور مجرمانہ سرگرمیوں میں شریک ہونے کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈینمین اور بیری کو وینزویلا میں گزشتہ ہفتے کے دوران میں دیگر 31 افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاری ایک ساحلی علاقے میں غیرقانونی انداز میں داخلے کے وقت ہوئی تھی۔ اس دوران سیکورٹی فورسز کے ساتھ پیش آنے والی جھڑپ میں کم از کم 8 افراد کی مبینہ ہلاکت بھی بتائی گئی تھی۔ مرنے والے افراد کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی ہے۔طارق ولیم صاب کے مطابق اپوزیشن لیڈر خوآن گوائیڈو کے ایک اہم مشیر خوان ہوزے رینڈون کی گرفتاری کے انٹرنیشنل وارنٹ جاری کرنے کی درخواست بھی کردی گئی ہے۔
وینزویلا میں سابق امریکی فوجیوں پر دہشت گردی کا الزام عائد
القمر
