نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) دنیا بھر میں اس وقت جاری مسلح تنازعات میں جنگ بندی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پر رائے دہی کو امریکا نے رکوا دیا۔ فرانس اور تیونس کی قیادت میں اس قراداد کے مسودے میں تمام تنازعات میں 3 ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ امریکا نے ایک روز قبل اس قرارداد کی حمایت کی تھی، تاہم آخری وقت پر اس کی مخالفت کر دی اور یوں باقاعدہ رائے دہی ممکن نہ ہو سکی۔ اس کی فی الحال کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ دیگر ذرائع کے مطابق امریکا قرارداد کے مسودے میں تبدیلیاں چاہتا تھا۔ خبرایجنسی اے ایف پی کے مطابق سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ امریکا نے جمعہ کے روز رائے شماری میں حصہ لینے سے گریز کیا۔ مذاکرات کاروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا نے جنگ بندی کے حق میں ووٹ دینے کی ہامی بھرنے کے محض ایک روز بعد ہی اس کے برعکس فیصلہ کیا۔ امریکی وفد نے سلامتی کونسل کے دیگر 14 ارکان کو تقریباً 2 ماہ میں سخت محنت کے بعد تیار کی گئی دستاویز سے متعلق مزید کوئی وضاحت دیے بغیر کہا کہ امریکا موجودہ ڈرافٹ کی حمایت نہیں کرسکتا۔ سلامتی کونسل کو امریکا کے اس فیصلے نے عالمی سطح پر امن و استحکام کی کوششوں کے حوالے سے لاجواب کردیا ہے، جب کہ کورونا وائرس سے دنیا بھر میں 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے عہدے دار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چین سلامتی کونسل میں ہونے والے ان تمام وعدوں کو روک دیتا ہے، جن کو منظور ہونا چاہیے۔ سفارت کا کہنا تھا کہ امریکا کو ووٹ سے دور رکھنے کے پیچھے بنیادی محرک مسودے میں عالمی ادارہ صحت سے متعلق استعمال کی گئی زبان ہے۔ دیگر ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا تھا کہ سلامتی کونسل ابتدائی طور پر تیار کی گئی قرار داد پیش کرے، جس میں کوروناوائرس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون میں شفافیت پر زور دیا گیا تھا۔ محکمہ خارجہ کے عہدے دار کا کہنا تھا کہ ہمارے مطابق سلامتی کونسل کو اپنی قرارداد جنگ بندی کی حمایت تک محدود رکھی چاہیے یا پھر ایک وسیع قرار داد پیش کرے جو کووڈ 19 کے حوالے سے رکن ممالک کے تعاون پر شفافیت اور احتساب کی ضرورت کا بھی احاطہ کررہی ہو۔ اس سے قبل امریکی صدر نے عالمی ادارہ صحت پر چین کی جانب داری کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
امریکا نے دنیا بھر میں جنگ بندی کی کوشش ناکام بنادی
القمر
