کراچی (اسٹاف رپورٹر) ضیاءالدین یونیورسٹی ایگزامینشن بورڈ نے محکمہ تعلیم سندھ کو ثانوی اور اعلیٰ ثانوی جماعتوں کے امتحانی عمل کے انعقاد کیلئے امتحانی مراکز کی تعداد کو بڑھانے، 40نمبر ز کے MCQsاور 60نمبرز کے مختصر سوالات اورامتحانی پرچے کا دورانیہ ڈیڑھ گھنٹے کرنے کی تجاویز پیش کردیں۔
ضیا ءالدین یونیورسٹی ایگزامینشن بورڈ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پروفیسر انوار احمد زئی نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے تناظر میں پوری دنیا کی زندگی کا منظر نامہ بدل چکا ہے،اس کا اثر تعلیم پر اور متحانات پر بھی دیکھنے میں آرہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک تجویز یہ سامنے آئی ہے کہ تمام طلباءکو بغیر امتحان کے اگلی کلاسوں میں ترقی دے دی جائے،یہ تجویز بظاہر موجودہ حالات میں امتحانات کے انعقاد اور طلباءکے اجتماع سے اجتنا ب برتنے کے لیے مناسب تو لگتی ہے مگر ا س کے محرکات بہت زیادہ نظر آرہے ہیں،ان میں اے ایک یہ ہے کہ ہم بڑی حد تک معیار پر سمجھوتہ کریں گے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ دوسری بات یہ کہ طلباءکا یہ بیج ہمیشہ کے لیے مراعات یافتہ بیج سمجھا جائے گا،پھر جو بچے نویں اور گیارہویں گلاس میں فیل ہوگئے ہیں ان کی اگلی جماعت میں ترقی اس لیے ممکن نہیں ہوگی کہ ترقی کے لیے شرط پچھلے امتحان کے نتائج کو رکھا گیا ہے۔
اس لیے مناسب یہ ہوگ اکہ ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جو موجودہ حالات کے حوالے سے قابل عمل بھی ہو اور معیار کو یکسر ختم کردینے کا مترادف بھی نہ سمجھا جائے۔
پروفیسر انوار احمد زئی نے تجویز پیش کی کہ پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت کے بچوں کو بغیر امتحانات کے اگلی جماعتوں میں ترقی کی تجویز کو کڑوی گولی سمجھ کر نگلا جاسکتا ہے۔
نویں، دسویں، اگیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کو بغیر امتحانات کے اگلی جماعتوں میں ٹیکنیکی رکاوٹیں ہیں، نویں اور گیارہویں جماعت کے طلبہ کو کس فارمولے کے تحت او ر کس گریڈ نگ کے تحت اگلی جماعت میں ترقی دی جاسکتی ہے۔
ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ضیا ءالدین یونیورسٹی امتحانی بورڈ نے مزید تجویز دی کہ امتحانات بڑے بڑے امتحانی مراکز میں جہاں سماجی فاصلہ ممکن نہیں ہے لینے بجائے ان کے اپنے اسکولوں میں سینٹرز بنا کر لیے جائیں جس کی نگرانی متعلقہ بورڈ کریں۔
نویں اور دسویں جماعت کے امتحان متبادل دنوں میں منعقد ہوں، یوں یہ طلبہ جن کی تعداد عموماً ہر اسکول میں 100سے کم ہوتی ہے وہ اپنے ہی اسکول میں امتحان دے سکیں گے جہاں عموماً 500سے زیادہ طلبہ پڑھتے ہیں۔ اس طرح 500طلبہ کی گنجائش میں تقریباً 50طلبا امتحان دیں گے جہاں سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی طریقہ کار گیارہویں اور بارہویں جماعت کے لیے اختیار کیا جاسکتا ہے،البتہ ان ہوم سینٹرز میں نگراں عملے کی تعیناتی دوسرے تعلیمی اداروں سے ہوگی۔
ان کی مزید تجویز ہے کہ ان امتحانوں کے لیے امتحانی پرچوں میں بھی تبدیلی کرنا ہوگی اور وہ اس طرح کے ہر پرچے کے دو سیکشنز ہوں گے،پہلا سیکشن MCQsسولوں پر مشتمل ہو،اس حصے میں 20سوالات ملٹی پل چوائس کے ساتھ لیے جائیں۔ ہر سوال کے 2نمبر ہوں، اس طرح یہ سیکشن 40نمبرز کا ہو۔
دوسرا سیکشن مختصر جوابات کے سوالات پر مشتمل ہوگا اس کے 15سوالات ہوں ہر سوال کے 4نمبر ہوں اس طرح اس سیکشن کے گل نمبر 60ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر پرچہ ڈیڑھ گھنٹے پر محیط ہو،اس میں سے 30منٹ MCQsکے لیے اور ایک گھنٹے مختصر جوابات کے سوالات کا سیکشن کرنے کے لیے ہو۔
پروفیسر انوار احمد زئی نے تجویز پیش کی کہ عملی امتحانات جواب تک طلبہ اپنے اسکولوں میں کرچکے ہیں اسی کے مطابق نمبرز دے دئیے جائیں،ورنہ اس کو مستثنیٰ قرار دے دیا جاسکتا ہے۔ اس طرح امتحانات کے پرچوں کی جانچ کا کام بھی سہل ہو جائے گا اور یہ مختصر مدت میں پورا کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح جو طلبہ نویں اور گیارہویں جماعت کے امتحانات میں فیل ہوگئے ہونگے ا ±نہیں بھی کامیاب ہونے کا موقع مل جائے گا۔
