کوالالمپور (انٹرنیشنل ڈیسک) ملائیشیا نے لاک ڈاؤن والے علاقے سے ایک ہزار 368 غیر قانونی پناہ گزینوں کو حراست میں لے لیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق ملائیشیا میں لاک ڈاون کے نتیجے میں معاشی حالات سے پریشان لوگوں کے روپوش ہونے اور گنجایش سے زائد بھری ہوئی جیلوں میں انفیکشن بڑھنے کے خدشے کے باجود اس قسم کے چھاپے جاری ہیں۔ محکمہ امیگریشن سے جاری بیان کے مطابق انڈونیشیا، بھارت، پاکستان، میانمر اور بنگلادیش سے تعلق رکھنے والے باشندوں کو ملائیشین دارالحکومت کوالالمپور کے باہر ایک بڑی مارکیٹ کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔ اس چھاپے میں 261 خواتین اور 98 بچوں کو بھی حراست میں لیا گیا جب کہ ایک ہفتے قبل بھی اس قسم کی کارروائی عمل میں لائی گئی تھی۔ حکام کا کہنا تھا کہ زیر حراست ان پناہ گزینوں کے جرائم میں مکمل شناختی دستاویز نہ ہونا، مدت گزرجانے کے باوجود رہایش اور جعلی دستاویزات رکھنا شامل ہیں۔ ایشیا پیسیفک رفیوجی نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو حراست میں لیا گیا اس میں زیادہ تر پناہ کے لیے درخواست دینے والے ہیں اور وہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین میں باضابطہ طور پر رجسٹرڈ نہیں ہیں۔
ملائیشیا میں 1368غیرقانونی تارکین وطن گرفتار
القمر
