کابل/واشنگٹن( آن لائن+اے پی پی ) افغانستان کے شمالی علاقہ قندوز میں سیکورٹی فورسز کی چوکیوں پر طالبان کے حملے میں 2اہلکار ہلاک اور3زخمی ہوگئے۔ افغانی وزارت دفاع کے ترجمان نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ جھڑپ میں 8طالبان بھی جاں بحق ہوئے ہیں تاہم اس کی کسی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔ علاوہ ازیںکابل میں اسپتال پر حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 24ہو گئی ہے۔امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیونے اسپتال اور جنازے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں پر کسی بھی قسم کا حملہ ناقابل معافی ہے لیکن زچہ و بچہ یونٹ پر حملہ سراسر غیراخلاقی فعل ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے بھی اسپتال پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حملوں میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے ان کا احتساب کیا جانا چاہیے۔ادھر افغانستان کے صدر اشرف غنی نے افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ ملک میں تشدد کے خاتمے اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے دفاعی صورت حال سے نکل کر اقدامی کارروائی شروع کرے اور کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے۔ایک ٹی وی چینل پر نشر بیان میں اشرف غنی نے کہا کہ عوامی مقامات پر امن وامان کا قیام، حملوں کو روکنا، طالبان اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کی طرف سے دھمکیوں کا جواب دینا مسلح افواج کی ذمے داری ہے،افواج دفاعی پوزیشن سے نکل کر اقدامی کارروائی کا آغاز کرے اور دشمن کو سبق سکھائے۔
قندوز میں سیکورٹی فورسز کی چوکیوں پرطالبان کاحملہ، 2ہلاک
القمر
