نیو یارک (انٹرنیشنل ڈیسک) دنیا بھر میں جاری مسلح تنازعات روکنے کے لیے جرمنی اور ایسٹونیا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد جمع کرائی ہے، جس کے مسودے میں تنازعات میں کم از کم 90 دن کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ وبا کے تناظر میں انسانی بنیادوں پر امداد کی راہ ہموار ہو سکے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق تازہ قرارداد کے مسودے میں سے امریکا کے اصرار پر عالمی ادارۂ صحت کا نام ہٹا دیا گیا ہے، جس پر توقع ہے کہ چین اپنا ردعمل ظاہر کرے گا۔ دوسری جانب ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس پھیلانے سے متعلق چین اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے جنگ بندی جیسی اہم اپیلیں غیر موثر ہو سکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس کی جانب سے عالمی وبا پر بھرپر توجہ دینے کے لیے دنیا بھر کے تنازعات والے علاقوں میں جنگ بندی کی اپیل کی حمایت میں فرانس اور تیونس نے قرارداد کا مسودہ پیش کیا تھا، تاہم اس میں ڈبلیو ایچ او کے ساتھ تعاون کے ذکر پر امریکا نے مخالفت کردی تھی۔ امریکا اس سے قبل چین کی طرف داری کا الزام عائد کرکے عالمی ادارہ صحت کو فنڈز کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان بھی کر چکا ہے۔ بعد ازاں ترمیمی مسودے میں عالمی ادارہ صحت کا نام لیے بغیر خصوصی اداروں کا حوالہ دیا گیا تاہم امریکا نے زبان پر اعتراض کرتے ہوئے اسے بھی مسترد کردیا۔ اس حوالے سے امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ چین اس مسودے کو استعمال کرنے کا خواہاں ہے تاکہ ووہان شہر میں وبا کی روک تھام کے اقدامات کو درست ثابت کیا جا سکے جبکہ امریکا چین پر اعداد شمار چھپانے اور وائرس پھیلانے کا الزام عائد کرتا ہے۔
