واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے بات نہ کرنے کی خواہش سے متعلق بیان پر بیجنگ حکومت نے سخت ردعمل دیا ہے۔ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ وہ کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے تناظر میں چین کے ساتھ تعلقات کم کر سکتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت کے ساتھ امریکا کے تعلقات میں بگاڑ کا واضح اشارہ دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ تعلقات مکمل طور پر ختم بھی کیے جا سکتے ہیںاور اگر ایسا کیا گیا تو 500 ارب ڈالر بچائے جا سکیں گے۔ اس کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور چین کے مابین اچھے اور مستحکم تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کی یومیہ پریس بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ بہتر تعلقات استوار کرنے کے لیے امریکا کو چین کے ساتھ تعاون کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وبا پر قابو پانے اور معاشی بحران سے نکلنے کے لیے روابط کو مضبوط بنانا ہوگا۔ واضح رہے کہ چین اور امریکا کے تعلقات میں گزشتہ کئی ماہ سے تناؤ پایا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کورونا وائرس سے متعلق حقائق چھپانے کے معاملے پر بیان بازی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چین کا موقف ہے کہ کورونا وائرس کے معاملے پر وہ مکمل شفافیت رکھتا ہے اور اس تناظر میں کچھ بھی چھپایا نہیں گیا۔ جب کہ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ چین اس وبا کو اپنے ملک تک محدود رکھ سکتا تھا، کیوں کہ اس نے جنم وہیں سے لیا تھا، لیکن بیجنگ نے ایسا نہیں کیا۔ واضح رہے کہ ٹرمپ ماضی میں اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کا بڑے فخر سے تذکرہ کیا کرتے تھے۔
چین کی امریکا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی تلقین
القمر
