English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اپنی ایک انچ زمین سے دستبردار نہیں ہوں گے،نیپال

القمر

کٹھ منڈو (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت اور نیپال کے درمیان متنازع سرحدی علاقے میں مودی سرکار کے اشتعال انگیز اقدام نے نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔ بھارت کے حالیہ اقدام سے نیپال کے عوام شدید ناراض ہیں اور انہیں منانے کے لیے نیپالی وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو ملکی پارلیمان میں یہ وضاحت دینی پڑی کہ نیپال اپنی زمین کا ایک انچ حصہ بھی نہیں چھوڑے گا۔ نیپال نے گزشتہ ہفتے بھارت کے خلاف اس وقت سخت ناراضی کا اظہار کیا تھا جب بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 8 مئی کو حقیقی کنٹرول لائن پر واقع لیپو لیکھ کے قریب سے ہو کر گزرنے والی اتراکھنڈ کیلاش مانسرور سڑک کا افتتاح کیا۔ لیپو لیکھ وہ جگہ ہے، جہاں بھارت، نیپال اور چین کی سرحدیں ملتی ہیں۔ ہندو اساطیر کے مطابق کیلاش مانسرور بھگوان شیوا کی جائے قیام ہے اور ہندو عقیدت مند ہر سال وہاں یاترا کے لیے جاتے ہیں۔ اس سڑک کی تعمیر سے بھارتی یاتریوں کی آمد و رفت میں کافی سہولت ہوگی، لیکن سڑک کے افتتاح کے بعد نیپال میں بھارت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس کے بعد نیپالی وزیر اعظم کو اجلاس طلب کرکے وضاحت دینی پڑی۔ نیپالی وزارت خارجہ نے بھی کٹھ منڈو میں بھارت کے سفیر کو اپنے دفتر میں طلب کر کے سخت احتجاج کیا اور کہا کہ بھارت نیپالی علاقے کے اندر اس طرح کی کسی بھی سرگرمی سے گریز کرے۔ مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد نیپال اور بھارت کے درمیان مسلسل دوری دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری طرف بھارت نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کسی بھی نیپالی علاقے میں مداخلت نہیں کی ہے اور یہ سڑک کیلاش مانسرور کے روایتی یاترا کے روٹ پر ہی تعمیر کی گئی ہے۔ ابھی یہ برہمی کم نہیں ہوئی تھی کہ 15مئی کو بھارت کے آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے نے یہ بیان دے دیا کہ بھارت کی طرف سے مذکورہ سڑک کی تعمیر میں انہیں کچھ متنازع نہیں دکھائی دیتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کا کافی امکان ہے کہ نیپال ایسا کسی کے اشارے پر کررہا ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے