واشنگٹن (اے پی پی) امریکا میں تعینات پاکستان کے سفیر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول کے ساتھ بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی مہم جوئی، بھارت کے اندر مسلمانوں اور دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں تشدد اور مظالم میں اضافہ کا نوٹس لے، سفیر نے خبردار کیا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ ایک اور محاذ آرائی کا آغاز کر سکتا ہے، مودی سرکار کی غیر ذمے دارانہ پالیسیوں کی وجہ سے
جنوبی ایشیا کے خطے میں امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان نے منگل کو امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز میں مضمون میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر اس وقت ’’ڈبل لاک ڈائون‘‘ کا شکار ہے جبکہ بیگناہ کشمیری گزشتہ 9 ماہ سے لاک ڈائون کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، کورونا وائرس کی وبا نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ مودی سرکار نے بیگناہ کشمیری عوام پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی ہے۔ اسد مجید خان نے کہا کہ بھارت میں تمام اقلیتیں اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران سوشل میڈیا پر جھوٹی مہم کے ذریعے مسلم اقلیت کو موردالزام ٹھہرانے کی مضموم کوشش کی۔ اسد مجید نے کہا کہ بھارت میں انتخابات کے نزدیک موجودہ حکومت مسلم دشمنی کے جذبات کو ہوا دیتی ہے تاکہ انتخابات میں جیت کو یقینی بنایا جا سکے۔پاکستانی سفیر نے خطے میں امن کے خواہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مصالحت کی پیشکش قبول کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اسد مجید خان
بھارت پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کا آغاز کر سکتا ہے، اسد مجید خان
القمر
