English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پہلے تم لوگ آ جانا، پھر میں آؤں گا 

القمر

کال ختم ہونے سے قبل وقاص بھائی کے الفاظ تھے کہ ہفتے کے روز تم سب پہلے جمع ہو جانا، تو امی نے کہا کہ ہم پہلے سے کیوں جمع ہو جائیں پہلے تم آ جاؤ تو ہم بھی آ جائیں گے۔

میرے ذہن میں ان کے یہ الفاظ گونج رہے ہیں کہ آنا تو انھیں جمعے کو تھا، لیکن جو ان کے الفاظ تھے کہ پہلے تم سب جمع ہو جانا، پھر میں آؤں گا، وہ پورا ہوا۔ ہم سب پہلے آ گئے اور وہ بعد میں آئے۔ اگر ان کی زندگی ہوتی تو وہ ہم سے پہلے پہنچ جاتے۔ میں ان کے یہ الفاظ ساری عمر یاد رکھوں گی۔ یہ احساسات مریم سمیر کے ہیں، جو پی کے 8303 کے حادثے میں زندگی ہارنے والے وقاص طارق کی کزن ہیں۔

گلبہار کے علاقے وحید آباد کی تنگ گلیوں کا دو منزلہ گھر تعزیت کے لئے آنے والوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہر کمرے میں موجود خواتین کی بڑی تعداد نے کچھ دیر قبل ہی وقاص طارق اور ان کی اہلیہ ندا وقاص کو آخری آرام گاہ بھیجنے سے قبل خوب شکوے گلے کئے کہ ان کا لاڈلا تو ان کے چہروں پر خوشیاں سجانے آ رہا تھا، آنسو کیوں دے گیا۔

یہ کیسا سرپرائز تھا؟ یہ کیسی دعوت تھی، جس پر جانے والے نے سب کو آج ہی کے روز مدعو کر رکھا تھا۔

یہ گھر وقاص کا آبائی گھر ہے۔ یہی وہ پیدا ہوئے، بڑے ہوئے، شادی ہوئی اور آج آخری سفر بھی یہی سے ہوا۔ پی آئی اے کی پرواز 8303 سے آنے والے وقاص اکیلے نہیں بلکہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ ندا، دس سالہ بیٹی آئمہ، سات سالہ بیٹا عالیان بھی شریک سفر تھے۔ لیکن جس روز انھوں نے اپنے پیاروں کو اپنے لاڈلے بچوں کی خوشی میں شریک ہونے کے لئے بلایا، اسی روز ان کو سپرد خاک کیا گیا۔ وقاص کے دونوں بچوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔





No media source currently available

ندا کی والدہ مسز عرفان، جو بچوں کی نانی بھی ہیں، اپنی سب سے بڑی اولاد کو کھونے کا غم تو جھیل رہی ہیں، لیکن بار بار یہ درخواست کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ ان کے نواسہ نواسی کی نعشیں ان کے حوالے کر دی جائیں جن کا ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔

مسز عرفان کے مطابق، میری بیٹی کی ایک سال قبل ہی لاہور اٹلس ہونڈا میں بطور اسسٹنٹ مینیجر پوسٹنگ ہوئی تھی۔ وہ بہت ذہین تھی۔ فلائٹ سے ایک روز قبل ہی اس نے مجھے کال کر کے بتایا کہ امی میں عید منانے آ رہی ہوں اور ہفتہ کو بچوں کی روزہ کشائی بھی ہو گی۔ آپ تیاری رکھیں لیکن یہ حادثہ ہو گیا۔ میرے نواسے عالیان کی ابھی پندرہ مئی کو ہی ساتویں سالگرہ ہوئی تھی۔ نواسے کی سالگرہ کی تصاویر دکھاتے ہوئے مسز عرفان کا ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔

مسز فوزیہ، وقاص کی پھپھو ہیں جن سے کراچی آنے سے قبل رات ڈیڑھ بجے تک وقاص بات کرتے رہے۔ یہ کال معمول سے کہیں زیادہ طویل تھی، جس میں ہنسی مذاق بھی جاری رہا۔ اچانک وقاص کال کے دوران ویڈیو پر میرے سامنے آ گیا اور پھر کال کاٹ کر دوبارہ کی۔ وہ مجھے بار بار کہتا رہا کہ ہفتے کو بچوں کی روزہ کشائی ہے۔ میں نے فلائٹ لینے سے قبل ہی سارا انتظام کروا لیا ہے۔ صرف آپ کو اور چچا کو بتا رہا ہوں، کسی سے نہ کہیے گا، تاکہ سرپرائز رہے اور دیکھیں مانی چلا گیا اور ساتھ سب کو لے گیا۔ ہمارا تعلق اپنے بھتیجے سے وہ تھا ہی نہیں جو عموماً ہوتا ہے۔ وہ تو ہم سے بہت دوستانہ رویہ رکھتا تھا۔ ان دنوں رمضان میں تو وہ روزانہ ہی ویڈیو کال کرتا تھا۔ بتاتا رہتا تھا کہ دیکھیں کرونا کی وجہ سے بچے گھر میں قید ہیں۔ بس اندر ہی کھیلتے کودتے ہیں۔ جب یہ حادثہ ہوا اور پھر لسٹ میں اس کا نام بھی سامنے آ گیا تو ہماری امید تو جیسے دم توڑ گئی۔

عالیان، بیٹا

وقاص اپنے چچا چچی سے خاصے قریب تھے۔ ان کی المناک موت پر ان کی چچی بہت زیادہ غمزدہ ہیں۔ وقاص نے لینڈنگ کرتے ہی ان کے گھر قیام کرنا تھا جہاں انھوں نے بچوں کی خوشی کے لئے سب کو دعوت دے رکھی تھی۔ وہ روزانہ صبح شام مجھ سے بات کرتا تھا۔ آخری بار جب بات ہوئی تو کہنے لگا کہ چچی! مجھے اپنے بچوں کی روزہ کشائی کرنی ہے تو اپنے گھر انتظامات کر لو، سب کو بلا لو۔

سعدیہ بھی وقاص کی پھوپھی ہیں۔ ان کے مطابق جہاز کو جب حادثہ پیش آیا تب سے ہی خبر سن کر سب اسپتال کے چکر کاٹتے رہے۔ پھر رات دس بجے وقاص اور ندا کو شناخت کر لیا گیا۔ وقاص کو ان کی گھڑی سے پہنچانا گیا جو انھیں شادی میں تحفتاً دی گئی تھی۔ ان کا جسم اتنا جلا ہوا تھا کہ شناخت ممکن تھی۔ یہاں تک کہ ان کے جسم پر تمام کپڑے موجود تھے اور ایک پاؤں میں جوتا اور موزا بھی تھا۔ ندا کو بھی ان کے چہرے اور گلے میں موجود سونے کی چین سے پہنچانا گیا۔

گھر میں تعزیت کے لئے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے جو بتاتا ہے کہ ہر ایک کے لئے یہ خبر کتنی دل گرفتہ ہے۔ وقاص کی خاندان والوں سے محبت اور ان کی عادت و اطوار کو یاد کرنے والوں میں ان کی کزن مریم سمیر بھی ہیں۔ جو گھر میں صدمے سے نڈھال خواتین کی دلجوئی کرتی دکھائی دیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے مریم نے بتایا کہ وہ اپنے زیر تعمیر گھر کے سبب بچوں کے ہمراہ ان دنوں اپنی والدہ کے گھر مقیم ہیں۔ یوں جب بھی ان کی والدہ سے وقاص رابطہ کرتے تھے مریم سے بھی بات کرتے۔ وقاص تین بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے اور خاندان بھر میں ہردلعزیز تھے۔ اپنی آمد سے قبل انھوں نے جب پھوپھی سے بات کی تو مریم بھی اس گفتگو میں شامل تھیں۔

جب سے وقاص بھائی لاہور سیٹل ہوئے تو خاندان سے اور بھی قریب ہو گئے، روزانہ ہی سب کو کال کرتے تھے۔ خیر خبر لیتے تھے۔ جمعرات کی رات کو انھوں نے امی سے کہا کہ فوزیہ پھوپھو میں چاہتا ہوں، سب کو ایک جگہ جمع کر لوں، تو امی نے کہ کیوں کیا تمہارے پاس بہت پیسے آ گئے ہیں؟ تو بھائی نے کہا پیسے کا کیا ہے آج ہیں کل نہیں ہیں۔ بس میں سب کو کھانا کھلانا چاہتا ہوں۔ سب چچا کے گھر جمع ہو جاؤ۔ میں سب کو وہاں کھانا کھلا دوں گا۔ تو امی نے کہا کہ ایسا کرو، کھانا پارسل کروا دو۔ ویسے ہی کرونا پھیلا ہوا ہے، تو بھائی نے ہنستے ہوئے کہا تو کیا تم لوگ مجھے تحفے پارسل کرو گے؟ اچھا یہ بتاؤ کہ کیا میں آ جاؤں؟ امی نے کہا کہ کرونا کی وجہ سے کیا آنا ممکن ہو گا؟ تو بولے کہ ہاں سب ہو جائے گا۔ اصل میں میں اپنے بچوں کی خوشی وہاں کرنا چاہتا ہوں، تو تم سب آؤ گے ناں؟ امی نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم آ جائیں گے۔

آئمہ وقاص، بیٹی

میں نے انھیں ہمیشہ سب سے پیار محبت کرتے دیکھا، بڑوں کا احترام کرتے تھے۔ اپنی بیوی کے ساتھ ان کا رویہ قابل رشک تھا۔ وہ نوکری کرتی تھیں ہمیشہ انھیں سپورٹ کیا۔ ہماری بھابھی بھی بہت اچھی تھیں۔ ان کا رویہ بھی مثالی تھا۔ دونوں میاں بیوی میں جو محبت تھی وہ سب کو نظر آتی تھی۔ شاید یہی وجہ ہے زندگی کے آخری سفر میں بھی ایک دوسرے کو تنہا نہیں چھوڑا۔ بچوں کی خواہش کہنے سے پہلے پوری کرتے تھے۔ اکثر ان کو بڑے کہتے تھے کہ کچھ سیونگ کرو، تو کہا کرتے تھے کہ نہیں میرے بچے ہیں۔ انھیں کوئی کمی نہ رہے۔ ابھی حال ہی میں انھوں نے پوری فیملی کو عمرہ کروایا۔ اتنی کم عمری میں ان کے بچوں کو عمرے کی سعادت نصیب ہوئی۔ انھوں نے اپنی سب خواہشیں پوری کیں۔ شاید انھوں نے اتنی ہی عمر پائی تھی۔ تب ہی سب نعمتوں سے اللہ نے انھیں نوازا۔ وہ سب کو کتنے پیارے تھے یہاں سے اندازہ لگائیں کہ ان کی والدہ کے انتقال کو نو سال بیت گئے اور آج ان کے جانے پر سب پھوپھیاں، چچی کیسے رو رہی ہیں جیسے ان کا اپنا بیٹا بچھڑا ہو۔

تدفین مکمل ہوتے ہی جب خاندان کے مردوں کی واپسی ہونے لگی تو ایک بار پھر سے وقاص اور ندا کو یاد کرنے کی صدا گونجی۔ کوئی گلے لگ کر روتا رہا تو کوئی اس حادثے کو خدا کی جانب سے ملنے والی آزمائش کہہ کر دوسروں کو تسلی دیتا رہا۔ ہم اس سوگوار گھرانے کے دکھ کو سن کر سوچنے لگے کہ جہاز کے حادثے میں جانیں کھونے والے 97 افراد کے خاندانوں کا دکھ عمر بھر کا ہے۔ کس نے کیا وعدہ کیا ہو گا؟ کیسا سرپرائز دینا تھا؟ اپنے پیاروں سے عید پر کیا فرمائش کرنا تھی۔ ایسی کئی داستانیں ہماری منتظر ہوں گی۔

لیکن ابھی اگلی منزل ایدھی کا وہ سرد خانہ تھا، جہاں جھلسی ہوئی میتیں اپنے پیاروں کی منتظر تھیں کہ کوئی آئے اور انھیں پہچان کر گھر واپس لے جائے کہ سفر اب طویل ہو چلا، انتظار اب صبر آزما ہو چکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے