اسلام آباد —
جمعے کو کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کی پرواز پی کے 8303 کے حادثے کے بعد تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
طیارہ ساز کمپنی ایئر بس کے فرانسیسی ماہرین کی ٹیم بھی منگل کی صبح پاکستان پہنچ گئی ہے۔ ایئر بس بنانے والی کمپنی کے ماہرین کی 11 رکنی ٹیم خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی پہنچی۔
ٹیم کے ماہرین حادثے کی جگہ کا دورہ اور پاکستان میں حادثے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو تیکنیکی معاونت فراہم کریں گے۔
فرانسیسی ماہرین طیارہ حادثے کی جگہ جناح گارڈن کے دورے کے علاوہ رن وے کا بھی معائنہ کریں گے، جہاں طیارے نے لینڈنگ کی پہلی کوشش کی تھی۔
ماہرین کی ٹیم اپنے ساتھ جہاز کا بلیک باکس بھی فرانس لے کر جائے گی کیوں کہ پاکستان کے پاس بلیک باکس کو ڈی کوڈ کرنے کی سہولت موجود نہیں ہے۔
فرانس کے شہر تولوز میں قائم ایئر بیس کی لیبارٹری میں بلیک باکس ڈی کوڈ کرنے کے بعد مکمل ڈیٹا اور تمام تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ جو پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کی جائیں گی۔
خیال رہے کہ لاہور سے کراچی جانے والا پی آئی اے کا طیارہ لینڈنگ سے کچھ دیر قبل رن وے سے ملحقہ آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے میں 97 افراد ہلاک جب کہ دو مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔
حادثے کی تحقیقات میں ایئر سیفٹی انوسٹی گیشن کے مختلف قواعد کے مطابق تحقیقات کا عمل جاری ہے جس میں حادثے کے تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا جاتا ہے۔
تحقیقات کے دوران اب تک کیا ہوا اور کیا تفصیلات سامنے آئیں ہیں ان کا جائزہ لیتے ہیں۔
No media source currently available
حادثے کی تحقیقاتی ٹیم
طیارہ حادثے کے بعد وفاقی حکومت نے ایئر کموڈور عثمان غنی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی ہے جو حادثے کی وجوہات کا تعین کرے گی۔
لیکن ناقدین ٹیم میں پاکستان ایئر فورس کے تمام افسران کو شامل کرنے پر سوال بھی اُٹھا رہے ہیں۔
پاکستان میں پائلٹس کی تنظیم پالپا نے بھی ٹیم کی تشکیل پر اعتراض اُٹھاتے ہوئے تحقیقات میں پالپا کا نمائندہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پالپا کا کہنا ہے کہ تیکنیکی مشاورت کے لیے کمرشل ایئر لائن پائلٹ کو ٹیم میں شامل کیا جائے۔ کیوں کہ جب تک یہی جہاز اڑانے والا پائلٹ اس ٹیم میں شامل نہیں ہوگا اس وقت تک جہاز کے اندر پیش آنے والے مختلف واقعات، ڈیٹا اور پائلٹ ردعمل کو مکمل طور نہیں جانچا جا سکتا۔
رن وے سے ملنے والے شواہد
حادثے کے بعد پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں رن وے کی تصاویر دکھائی گئیں جن میں رن وے پر مبینہ طور پر جہاز کے انجنز کے نشانات دکھائے گئے۔
ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انوسٹی گیشن بورڈ نے رن وے کا جائزہ لیا تو اس دوران معلوم ہوا کہ ایل 25 رن وے پرطیارے کے انجن کی رگڑ کے نشانات موجود ہیں۔
ایوی ایشن حکام کے مطابق چار مختلف مقامات پر رن وے کا کچھ حصہ متاثر بھی ہوا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم نے رن وے پر لگے کیمرے کی مدد سے طیارے کی لینڈنگ کے مناظر بھی دیکھے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام نے دونوں کیمروں کی ریکارڈنگ بھی تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کر دی ہے۔
بعض ایوی ایشن حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ فوٹیجز میں دیکھا گیا ہے کہ لینڈنگ کے وقت جہاز کے لینڈنگ گیئر ڈاؤن نہیں تھے۔ یہ لینڈنگ گیئر ڈاؤن نہ ہونا تیکنیکی خرابی تھی یا انسانی غلطی اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ لینڈنگ کے دوران طیارے کے پہلے بائیں انجن کو رن وے 4500 فٹ کے مقام پررگڑ لگی اس کے بعد دائیں انجن کو 5500 فٹ کے مقام پر رگڑ لگی جس کے بعد دونوں انجنز ایک ساتھ زمین پر لگے اور اسی دوران طیارہ اوپر کی جانب بلند ہوا۔
ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ رن وے پر جہاں جہاں رگڑ لگی ان کی پیمائش کر لی گئی ہے۔ اس بات کا بھی تعین کیا جا رہا ہے کہ رن پر انجنز لگنے سے انہیں کتنا نقصان پہنچا۔
No media source currently available
پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کی گفتگو
اس حادثے کے کچھ ہی دیر بعد ملک بھر میں الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر آڈیو ٹیپس گردش کرنے لگیں جن میں جہاز کے پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کے درمیان ہونے والی گفتگو سنائی جا رہی تھی۔
مذکورہ گفتگو کے مطابق پائلٹ نے حادثے سے 13 منٹ قبل رن وے کو ٹچ کیا تھا جس کے بعد پائلٹ نے ‘گو آراؤنڈ’ یعنی ایک اور چکر لگانے کا فیصلہ کیا۔
گو آراؤنڈ کو ایوی ایشن زبان میں ایسی صورتِ حال کو کہا جاتا ہے جس میں پائلٹ کسی بھی معمولی تیکنیکی مسئلے یا دشواری کے پیشِ نظر لینڈنگ کا ارادہ ترک کر کے ایک اور چکر لگا کر دوبارہ لینڈنگ کرتا ہے۔
ایوی ایشن ماہرین اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کر رہے ہیں کہ کنٹرول ٹاور اور کاک پٹ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں کہیں بھی لینڈنگ گیئرز کا تذکرہ نہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس گفتگو سے پہلے لینڈنگ گیئرز سے متعلق گفتگو ہوئی ہو لہذٰا بلیک باکس کھلنے کے بعد ہی مزید تفصیلات سامنے آ سکیں گی۔
حادثے سے کچھ دیر قبل ایئر ٹریفک کنٹرولر کی طرف سے پائلٹ کو بتایا گیا کہ دونوں رن وے خالی ہیں۔ لیکن پائلٹ کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ دونوں انجنز خراب ہیں۔
لیکن اس کے بعد پائلٹ نے مے ڈے، مے ڈے، مے ڈے کی کال دے دی اور طیارہ آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا۔
حادثے کے مقام سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے
حادثے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے جائے حادثہ سے جہاز کے مختلف آلات اکٹھے کر لیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تحقیقات کے دوران جہاز کا ہر پرزہ بے شک جس بھی حال میں ہو وہ تحقیقات میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ان میں تباہ حال انجنز کے پروں تک کی پوزیشن بھی جہاز کی تباہی کی وجوہات بتا سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ کاک پٹ کے مختلف آلات اور مختلف نابز کی پوزیشن بھی تحقیقات میں مدد دے سکتی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے مختلف آلات، پرزوں اور گرنے کے مقامات کی تصاویر اور فوٹیجز حاصل کر لی ہیں۔
No media source currently available
معلومات کون لیک کر رہا ہے؟
حادثے کے بعد تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ لیکن ملک بھر میں حادثے کے بعد آڈیو ریکارڈنگز اور مختلف دستاویزات گردش کر رہی ہیں۔
ان آڈیو ٹیپس یا دستاویزات کی پی آئی اے یا سول ایوی ایشن کی جانب سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
حادثے کے بعد لیک ہونے والی آڈیو اور فوٹیجز کے معاملے پر پی آئی اے انتظامیہ اور پائلٹس کی تنظیم پالپا کے درمیان کشیدگی بھی سامنے آئی ہے۔
خیال رہے کہ لازمی خدمات ایکٹ میں پی آئی اے کو شامل کرنے کے بعد پائلٹس کی تنظیم پالپا کو تحفظات بھی رہے ہیں۔
پائلٹ کو ذمہ دار قرار دینے کی خبروں پر طیارے کے پائلٹ سجاد گل کے والد گل محمد بھٹی بھی نالاں ہیں۔ انہوں نے پی آئی اے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے بھی اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ ابھی تحقیقات جاری ہیں اور ایک پائلٹ جس نے 17ہزار گھنٹوں کی فلائٹس کیں اسے حادثے کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے دستاویزات اور آڈیوز لیک کی جا رہی ہیں۔
