ہانگ کانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین میں تیانمن اسکوائر کریک ڈاؤن کو 31برس گزرنے پر ہانگ کانگ کے جمہوریت پسند مظاہرین نے پولیس کے ناکوں اور رکاوٹوں کو توڑ ڈالا۔ خبررساں اداروں کے مطابق ہانگ کانگ میں واقعے کی اکتیسویں برسی کے موقع پر جلوس نکالنے پر پابندی عائد کی گئی تھی،جو ہانگ کانگ کے لیے نئے سیکورٹی قانون کی منظوری کے بعد سے نافذ ہے۔ 4 جون 1989 ء کو چینی فوج نے اپنے ہی شہریوں پر فائرنگ کر دی تھی، جس سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ چینی عوام کو اس سانحہ کے بارے میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اس سے متعلق اطلاعات کو سختی کے ساتھ کنٹرول کیا جاتا ہے۔ہر سال ہانگ کانگ کے سرگرم جمہوریت نواز کارکن ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں وکٹوریاپارک میں شمعیں روشن کر تے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چین کی جمہوریت نواز تحریک کے سابق رہنماؤں سے ملاقات کی، جو بیجنگ کے تیانمن اسکوائر میں چینی فوج کے ہاتھوں قتل عام کے بعد پکڑ دھکڑ کی کارروائی سے متاثر ہوئے تھے۔ پومپیو نے وانگ ڈان اور 3دیگر سابق طلبہ رہنماؤں سے ملاقات کی ہے، جنہوں نے واقعے کے بعد امریکا میں سیاسی پناہ طلب کی تھی۔ پومپیو نے ملاقات کی تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی جاری کی ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے تیانمن اسکوائر کے ہلاک شدگان سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ ہلاک اورلاپتاہونے والے مظاہرین کی تعداد اب تک نامعلوم ہے۔ بیان میں چین سے صحیح تعداد بتانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
ہانگ کانگ ،رکاوٹیں عبور کرکے جمہوریت پسند پھر سڑکوں پر
القمر
