کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن اور دیگر قوتیں نان اشوز پر باتیں کر رہی ہیں حالانکہ پاکستان کو اس وقت بہت بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اور سنتھیا رچی جیسے غیر اہم معاملات اس وجہ سے اٹھائے جارہے ہیں تاکہ عوام کو غیر ضروری معاملا ت میں الجھا کر رکھا جائے اور کردار کشی کر رہے ہیں ۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم چینی بحران کے ذمہ داروں کو سزا دلوانے کی بات کریں کورونا کی وباءکے بارے میں بات کریں لیکن اس طرح کی باتیں عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے پھیلائی جاتی ہیں تاکہ عوام کی نظروں سے اصل معاملات اوجھل ہوجائیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہاکہ اومنی گروپ کو سبسڈی دینے کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے جیسے کھودا پہاڑ نکلا چوہا کیونکہ اس وقت جو سبسڈی دی گئی تھی اس کا تقریباً 15فیصد اومنی گروپ کو ملا اور باقی تمام سبسڈی دوسری ملوں کو دی گئی جن میں وزیر اعظم کے دوست جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کی ملیں بھی شامل ہیں انہوں نے کہا کہ ہم پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے عملی کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ جب پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس کراچی اور اسلام آباد میں آیا تو اسی وقت صوبہ سندھ میں ماہرین پر مشتمل کمیٹی بنادی گئی اور اس کی سفارشات پر عمل شروع کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ وزیر اعظم کو استدعا کی گئی کہ وہ ملکی سطح پر فوری طور پر اس پر عمل شروع کروائیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وفاقی حکومت نے ان کی سفارشات پر کان نہ دھرے اور باہر سے آنے والے لوگوں کو نہ تو روکا گیا اور نہ ہی ان کو چیک کیا گیا اس طرح لاکھوں لوگ ملک میں پھیل گئے اس طرح یہ وباءملک میں وفاقی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے پھیل چکی ہے اور اب تو ان ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے غیر معینہ مدت تک زندگی گذارنی پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر اٹھارویں ترمیم کے تناظر میں بات کی جائے تو سندھ میں صرف صحت کے شعبہ کو ہی لے لیں تو NICVD کے Pain Chest Unit سے لے کر گمبٹ میں جگر کی پیوند کاری جس کے لئے لوگ علاج کے لئے بیرون ملک جاتے تھے کو ہی لے لیں یہ سب اٹھارویں ترمیم کے بعد ہی ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کینسر کا علاج سائیبر نائف سے صرف صوبہ سندھ میں مفت ہوتا ہے ۔ یہ سب اٹھارویں ترمیم کے بعد ہی سندھ حکومت نے کیا ہے ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ جعلی ڈومیسائل کے معاملہ میں وزیر اعلیٰ سندھ نے تحقیقات کروائی ہیں اور سندھ حکومت اس پر سخت کاروائی کرے گی اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں ان کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے ۔
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ جہاں تک لاک ڈاﺅن کی بات ہے تو جب سندھ حکومت نے لاک ڈاﺅن کیا تو ہر طرف سے سندھ حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ٹرین سروس اور فضائی سروس تک معطل نہ کی گئی اس وجہ سے یہ لاک ڈاﺅن موثر ثابت نہ ہوا اور اس کے بعد یہ لاک ڈاﺅن پورے ملک میں نافذ کیا گیا لیکن اس وقت تک حالات ہمارے ہاتھوں سے نکل چکے تھے ۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سندھ حکومت کے کہنے پر اگر شروع میں ہی موثر لاک ڈاﺅ ن ہوجاتا تو یہ بھیانک صورتحال نہ ہوتی انہوں نے کہا کہ کورونا سے لڑنا نہیں ہے اس سے بچنا ہے یہ عذاب الٰہی ہے اور ہمیں اللہ سے معافی مانگنی چاہئے ۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کووڈ 19نے بہت لوگوں کو بچا لیا ہے اور معیشت کے معاملات کو کورونا سے نتھی کر دیا گیا اور ترقیاتی کاموں کو پس پشت ڈال دیا گیا ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ سندھ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے بسیں نہیں چل پارہی ہیں لیکن موجودہ وزیر اعظم پاکستان نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس میں سندھ حکومت کی نا اہلی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ مسائل ہیں انشاا للہ جلد ہی بسیں بھی شروع کر دی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت کے مطابق سب سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل جل کر کام کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے علاوہ سب لوگ فرشتے نہیں ہیں اور کمیشن کی رپورٹ کے مطابق چینی بحران کی ذمہ داری وفاقی حکومت اور خود وزیر اعظم پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے خود چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی تھی اور باقی تمام ذمہ داروں کو اس کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں سزا ملنی چاہئے تھی یہ قول و فعل میں کھلا تضاد ہے اور اب مسائل کے بجائے ذاتیات پر حملے کئے جا رہے ہیں تاکہ اصل مسئلہ سے عوام کی توجہ ہٹائی جاسکے۔ دریں اثنا صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے منہدم ہونے والی رہائشی عمارت کا دورہ کیا اور اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مخدوش عمارتوں کو لوگ خالی کرنے کو تیار نہیں ہوتے اس کے لئے سندھ حکومت قانون سازی کر رہی ہے تاکہ ان معاملات کا سد باب ہوسکے۔
