واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں پولیس افسر کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کی ماروائے قانون ہلاکت نے جہاں ایک طرف احتجاجی مظاہروں کی صورت میں آگ لگا رکھی ہے، وہیں ایوانوں میں حکمراں ریپبلکن پارٹی کے حریف ڈیموکریٹس پولیس قوانین میں اصلاحات کے لیے میدان میں آگئے ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق ڈیموکریٹس نے پیر کے روز یہ بل پیش کیا۔ اس سے قبل تمام ڈیموکریٹک سینیٹرز اور ارکانِ ایوانِ نمایندگان نے پولیس گردی میں ہلاک ہونے والے جارج فلوئیڈ اور دیگر کے لیے خاموشی اختیا رکی اور وہ تقریباً 9 منٹ تک ایک گھٹنے پر بیٹھے رہے، جو اب پولیس کے وحشیانہ پن اور تشدد کا استعارہ بن چکا ہے۔ اس موقع پر اسپیکر ایوانِ نمایندگان نینسی پلوسی نے کہا کہ ہم اب محکمہ پولیس کے ڈھانچے کی مکمل تبدیلی سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب امریکا میں نسل پرستی کے خلاف جاری مظاہروں میں پولیس کے فنڈز کم کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔ نیویارک کے میئر نے قانون کے نفاذ سے منسلک کچھ فنڈز دیگر شعبوں کو منتقل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ جب کہ منیا پولس کی سٹی کونسل نے محکمہ پولیس کو ختم کرنے اور اسے از سر نو تشکیل دینے کے حق میں ووٹ دیا۔ سیاہ فام امریکی شہری جارج فلوئیڈ کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے خلاف گزشتہ 2 ہفتوں سے ملک بھر میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ کونسل کی صدر لیسا بینڈر نے کہا کہ ہم فیصلہ کر چکے ہیں کہ محکمہ پولیس کو ختم کر دیا جائے اور اس کی جگہ ایسا ماڈل پیش کیا جائے جو حقیقی معنوں میں کمیونٹی کا تحفظ یقینی بنائے۔ادھر امریکی وزیر انصاف ولیم بار نے پولیس میں اصلاحات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کا نظام منظم طور پر نسل پرستی پر مبنی نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات ایک انٹرویو میں کہی۔
امریکا کا پولیس اصلاحات کا بل تیار فنڈز کم کرنے کا عوامی مطالبہ کا دعویٰ
القمر
