English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے قیام سے انکار

القمر

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ چند ہفتوں میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے بعض علاقوں کا الحاق شروع کر دیا جائے گا اور ہم فلسطینی ریاست کے قیام کی ہر گز منظوری نہیں دیں گے۔ خبررساں اداروں کے مطابق نیتن یاہو نے مغربی کنارے میں قائم 12 غیر قانونی بستیوں کے نمایندوں کے ساتھ ایک پینل میں شرکت کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے کا الحاق چند ہفتوں میں ممکن ہو جائے گا اور ہماری حکومت ریاست فلسطین کے قیام کی منظوری ہر گز قبول نہیں کرے گی۔ تاہم انہوں نے اپنی گفتگو میں اس جانب اشارہ کیا کہ اس منصوبے سے متعلق نقشے ابھی تک تیار نہیں کیے جاسکے ہیں۔ انہوں نے 73 سال میں ملنے والے صہیونی توسیع پسندی کے اس بڑے منصوبے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بدولت میسر آنے والا یہ موقع پھر ہاتھ نہیں آئے گا۔ یا د رہے کہ بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا کرنے والے بنیامین نیتن یاہو نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مغربی کنارے کے کچھ علاقے اور وادیٔ اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا نعرہ لگایا تھا۔ جب کہ ٹرمپ کے مجوزہ مشرقِ وسطیٰ امن منصوبے نے بنیامین نیتن یاہو کو اس غاصبانہ اقدام کا حوصلہ فراہم کیا۔ دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے تحریک الفتح کو تمام فلسطینی قوتوں کے ساتھ مل کر تاریخی فیصلہ سازی اور ملک وقوم کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق عمان میں منعقدہ ’’النکسہ‘‘ کے حوالے سے ورچوئل کانفرنس سے خطاب میں اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام فلسطینی دھڑے ایک میز پر بیٹھیں اور مشترکہ قومی حکمت عملی طے کریں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک الفتح کی قیادت سمیت تمام فلسطینی جماعتوں کا سیکرٹری جنرل کی سطح کا اجلاس ہونا چاہیے، تاکہ ہم قضیہ فلسطین کودرپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کوئی متفقہ فیصلہ اور لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔ انہوں نے فلسطین اور اردن پر مشتمل ایک تزویراتی اتحاد تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ مسلمان اور عرب ممالک پرمشتمل فلسطینی موقف کی حمایت پرمبنی ایک اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فلسطینی قوتوں کو مزاحمت، اسرائیلی ریاست کے غاصبانہ قبضے کے خلاف مسلح جدو جہد اور قومی تزویراتی حکمت عملی تشکیل دینے پر توجہ دینی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے