کراچی: لیاری میں عمارت گرنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 14 ہوگئی۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لیاری نیا آباد میں کثیرالمنزلہ عمارت کا ملبہ اٹھائے جانے کا کام جاری ہے جس میں سے خاتون سمیت مزید 5 لاشیں نکال لی گئیں جب کہ عمارت کے ملبے سے اب تک 4 خواتین سمیت 14 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ملبے سے تقریباً 24 گھنٹے بعد 32 سالہ شاہد شفیق کو تشویشناک حالت میں نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ واقعے میں 10 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے جن میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جو مددگار 15 کی اطلاع پر موقع پر پہنچے تھے۔
پاک فوج انجینئرنگ کور، رینجرز، پولیس اور ریسکیو ادارے ریسکیو کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں ایس ایس پی سٹی ڈویژن مقدس حیدر نے جیو نیوز کو بتایا کہ لیاری میں گرنے والی عمارت آخری بار 1986 میں تیار حالت میں فروخت ہوئی، جس بلڈر نے تیار حالت میں عمارت خریدی اس کا 2005 میں انتقال ہو گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مارچ میں اس عمارت کو خالی کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا جاچکا تھا، اتوار کی صبح اس میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئی تو زیادہ تر لوگ جاچکے تھے لیکن شام میں جس وقت عمارت گری اس سے کچھ دیر پہلے 15 مددگار پر کال وصول ہوئی تھی۔
عینی شاہدین کے مطابق جس وقت عمارت گری لوگ اپنا سامان نکال رہے تھے، ایک اندازے کے مطابق جس وقت عمارت گری اس میں تقریباً 30 لوگ موجود تھے۔
عمارت کی قانونی حیثیت کے لیے ایس بی سی اے کو خط لکھا جائے گا اور ایس بی سی اے ہی عمارت کے نقشے اور اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں بتا سکتی ہے۔
اس سلسلے میں جب ڈی جی ایس بی سی اے نسیم الغنی سہتو سے رابطے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے جواب نہیں دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں لیاری میں 5 منزلہ رہائشی عمارت گرگئی تھی جس میں 40 فلیٹ تھے جب کہ عمارت پر پینٹ ہاؤس بھی تعمیر کیا گیا تھا۔
سائنس
ٹوئٹر اکاؤنٹس کی تصدیق کےلیے ’’بلیوٹک فیچر‘‘ کی بحالی پر غور
سلیکان ویلی: مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر، صارفین کے اکاؤنٹس کی تصدیق کےلیے اپنے مشہور زمانہ فیچر ’’بلیو ٹک‘‘ (blue tick) کی بحالی پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر عوام اور خواص میں بہت مقبول اور مستند سمجھی جاتی ہے جس میں صارفین مختصر پوسٹس یعنی ’’مائیکرو بلاگنگ‘‘ کے ذریعے اپنا پیغام دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔ فیس بک یا انسٹاگرام کے برعکس، ٹوئٹر میں تصاویر یا ویڈیوز کے بجائے تحریر پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ ٹوئٹر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ نجی و سرکاری اداروں کے علاوہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت، کئی ممالک کے سربراہان اہم ’’سرکاری اعلانات‘‘ تک کے لیے ٹوئٹر پر ’’ٹویٹس‘‘ کا سہارا لیتے ہیں۔
بدقسمتی سے سماجی رابطے کی دیگر ویب سائٹس کی طرح ٹوئٹر پر بھی جعلی اکاؤنٹس کی بھر مار ہوگئی اور کئی ممالک کے سربراہان، شوبز شخصیات اور نامور کھلاڑیوں کے نقلی اکاؤنٹس بنائے جانے لگے جن کے ذریعے گمراہ کن ٹویٹس کی بہتات ہوگئی جس سے سچ کے بجائے جھوٹ نے فروغ پایا اور خبر کی تصدیق کرنا محال ہوگیا۔ اس پر چند برس قبل ٹوئٹر انتظامیہ نے اپنے اہم صارفین کے اکاؤنٹس کی تصدیق کرنا شروع کردی۔
جس صارف کے اکاؤنٹ کی تصدیق ہوجاتی اس پر نیلے رنگ کا ایک نشان یعنی ’’بلیو ٹِک‘‘ نمودار ہوجاتا جو اس اکاؤنٹ کے ’’تصدیق شدہ‘‘ ہونے کو ظاہر کرتا؛ اور یوں اسی نام سے بننے والے دیگر ٹوئٹر اکاؤنٹس سے صارفین دھوکا نہیں کھاتے یا کم از کم محتاط ضرور ہوجاتے۔ کئی جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹس کو تصدیق نہ ہونے پر بند بھی کردیا گیا تھا تاہم کئی ملکوں میں ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے دوران ٹوئٹر کے ذریعے پروپیگنڈا مہم اور نتائج پر اثرا انداز ہونے کے الزامات کی تحقیقات کے دوران بلیو ٹِک فیچر 2017 میں ترجیح سے ہٹ گیا۔
ٹوئٹر کی جانب سے دوبارہ سے ’’بلیو ٹِک‘‘ فیچر کے آغاز کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ایک صارف نے ٹویٹ کی جس میں اکاؤنٹ کی تصدیق کےلیے دی گئی درخواست کے آپشن کا اسکرین شاٹ دیا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹویٹر دوبارہ اس پر کام کر رہا ہے۔ ٹویٹر انتظامیہ نے صارف کے دعوے کی تردید نہیں کی تاہم یہ ضرور واضح کیا کہ ابھی یہ ’’ہولڈ‘‘ پر ہے اور اس پر کام جاری ہے۔
