English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کیلیے نئی پالیسی کا اعلان

القمر

نئی دہلی (صباح نیوز)بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کے لیے الگ نئی پالیسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں کسی بھی صحافی کے ایکریڈیشن کے لیے اس کے ماضی کی چھان بین کی جائے گی۔ اخبار کی رجسٹریشن اور حکومتی اشتہارات تک رسائی کے لیے مالکان، ایڈیٹرز اور دیگرملازمین کے ماضی کی چھان کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ جرمن ٹی وی کے مطابق اس سے متعلق 50 صفحات پر مشتمل پالیسی دستاویز تیار کی گئی ہیں ۔ نئی پالیسی کے تحت حکومت اخبار، ٹی وی چینلز یا دیگر میڈیا میں شائع یا نشر ہونے والے مواد کی نگرانی کرے گی اور سرکاری حکام یہ فیصلہ کریں گے کہ فرضی خبر کون سی ہے اور سماج مخالف یا پھر ملک مخالف رپورٹنگ کیا ہے۔ جو میڈیا تنظیمیں فرضی خبریں یا پھر ملک مخالف خبریں شائع کرنے کی مرتکب پائی جائیں گے ان کی رجسٹریشن ختم کر دی جائے گی، اشتہارات بند کر دیے جائیں گے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں حکومت سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کرخبروں کا تجزیہ کریں گی۔سرینگر کے صحافی الطاف حسین نے جرمن ٹی وی ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ بھارت میں اب صحافت کہاں بچی ہے،میڈیا حکومت کی مدح سرائی کے سوا کرتا کیا ہے، کشمیر کی مقامی صحافت اصل جرنلزم پر یقین رکھتی ہے تاہم انتظامیہ نے اتنی مشکلیں کھڑی کر دی ہیں کہ کشمیری میڈیا بھی وہی کرنے لگا ہے جو بھارتی میڈیا کر رہا ہے۔ کشمیری میڈیا پر معاشی اور جیل جانے کا دبائو ہے۔ اب حریت رہنماؤں کے بیانات برائے نام شائع ہوتے ہیں۔ اگر آزاد صحافی کے طور پر میں آج ایک مضمون لکھوں تو اسے کشمیر کا شاید ہی کوئی اخبار شائع کرے گا، صحافیوں کو ان کی خبروں کے لیے پولیس دفاتر میں طلب کر کے پریشان کیاجاتاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے