لاہور(جسارت نیوز)سابق آئی سی سی امپائر میاں اسلم نے کہا ہے کہ امپائرنگ کا شعبہ کرکٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے‘ امپائر بننے کیلئے کرکٹ کھیلنا ضروری ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایک اچھا کرکٹر ایک اچھا امپائر بن سکے‘امپائر بننے کیلئے ایک مرحلہ وار ٹریننگ سے گزرنا پڑتا ہے ‘امپائرنگ کیلئے ایک الگ شعبہ ہونا چاہیے‘جہاں امپائرز کیلئے مکمل ٹریننگ کورسز کا انعقاد ہو تاکہ بہتر سے بہتر امپائرز پیدا کئے جا سکیں‘گراس روٹ لیول پر اصلاحات کر کے امپائرنگ کے شعبہ کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ا نہوں نے سرکاری خبر رساں ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ امپائرنگ کیلئے تعلیم کے ساتھ ساتھ تجربہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ جتنا زیادہ تجربہ ہو گا اتنا ہی بہتر امپائر ثابت ہو گا‘امپائرنگ کا شعبہ کرکٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے‘ امپائر بننے کیلئے ایک مرحلہ وار ٹریننگ سے گزرنا پڑتا ہے ‘امپائرنگ کیلئے ایک الگ شعبہ ہونا چاہیے‘جہاں امپائرز کیلئے مکمل ٹریننگ کورسز کا انعقاد ہونا چاہیے تاکہ بہتر سے بہتر امپائرز پیدا کئے جا سکیں‘امپائر بننے کے لئے کرکٹ کھیلنا ضروری ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایک اچھا کرکٹر ایک اچھا امپائر بن سکے۔میاں اسلم نے کہاکہ جس طرح کرکٹ کمیٹی اور سلیکشن کمیٹی ہوتی ہے اسی طرح امپائرز کیلئے ایک کمیٹی ہونی چاہیے جس میں پرانے اور تجربہ کار امپائرز کو کنسلٹنٹ کے طور پر لیا جانا چاہیے جو نئے امپائرز کو ٹریننگ دیں ‘انہوں نے کہاکہ ہمیں قومی سطح پر نئے امپائر ز پیدا کرنا ہوں گے جس کیلئے اسکول اور یونیورسٹی لیول پر امپائرز کی کارکردگی کو جانچنے کی ضرورت ہے تاکہ پھر قومی سطح پر اچھے امپائرز مل سکیں‘نئے امپائرز بنانے کیلئے ایک مرحلہ وار ٹریننگ سے گزرنا پڑتا ہے ۔
امپائرنگ کا شعبہ کرکٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،میاں اسلم
القمر
