کراچی (اسٹاف رپورٹر) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ نے کہا ہے کہ بیٹنگ کوچ یونس خان پاکستان ٹیم کو بہتر کرکٹ پر مبنی ماحول مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس کیلئے انہیں اپنے موڈ کی تبدیلیوں پر قابو رکھنا پڑے گا، انگلینڈ کے دورے کے دوران وہ کرکٹ کی توجہ کو بہتر بنا سکتے ہیں یہ ایک مشکل سفر ہے جہاں کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ چیزوں کو سمجھنے اور بہتر کرنے کی بھی ضرورت ہوگی اور یونس اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پیغام میں رمیز راجہ نے کہا کہ یونس خان ایک محنتی اور سرشار شخص ہے۔ ان کے کیریئر کا ریکارڈ شاندار ہیں، انگلینڈ میں بھی ان کا عمدہ ریکارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونس خان نے ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کے لئے کردار ادا کیا ہے اور موجودہ پاکستانی ٹیم میں متعدد کھلاڑی موجود ہیں جو انہیں یا تو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں یا ان کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ہیڈ کوچ مصباح الحق کے ساتھ بہت اچھا تعلق ہے اور شاید اسی وجہ سے بھی مصباح نے ان کو ٹیم کے ساتھ شامل ہونے کے خواہاں ہیں۔ مایہ ناز کمنٹیٹر رمیز راجہ نے کہا کہ وہ ایک کامیاب بیٹنگ کوچ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یونس خان مزاج کے تھوڑے سخت ہیں کیونکہ ماضی میں ایک یا2مرتبہ پی سی بی میں کسی حد تک دستخط کرنے والے تھے لیکن معاہدے میں کچھ شقوں کو پسند نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے ایسا نہیں کیا، وہ ایک موڈی آدمی ہے لہذا انہیں اس میں تبدیلی لانی ہو گی کیونکہ کسی بھی وقت اس کا موڈ خراب ہو سکتا ہے اور وہ چھوڑ سکتا ہے لیکن اب اسے اس طرح کا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہ نیا کیریئر شروع کررہا ہے۔ جب آپ کھلاڑی ہوتے ہیں تو آپ کو طرح طرح کے چیلنجز اور مطالبات پیش آتے ہیں لیکن جب آپ کوچ بن جاتے ہیں تو آپ ڈیسک کے پیچھے سے کام شروع کردیتے ہیں۔بحیثیت کوچ آپ خدمت مہیا کرتے ہیں اور اگر آپ کا مزاج کنٹرول میں نہیں ہے تو آپ کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ اس کا مطلب ہے کہ بطور کوچ لوگوں کو جاننا اور سمجھنا ضروری ہوتا ہے اس کیلئے صبر کی ضرورت ہے۔ اگر یونس ایسا رویہ نہیں دکھائے گا تو پھر کام مشکل ہو جائے گا۔ پاکستان کو ایسی سرخیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ یونس کو بطور کوچ کام کرنا پڑے گا کیونکہ اب وہ ملازم ہے۔ رمیز راجہ نے کہا کہ کچھ اور بڑے فوائد جو پاکستان ٹیم یونس سے حاصل کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اسپن بولنگ کو کس طرح کھیلنا ہے اور وکٹوں کے درمیان دوڑنے کا فن سیکھنا ہے۔ ایک بلے باز کے طور پر وہ ان دو چیزوں میں وہ ماہر تھے، اگرچہ یہ4 سے 6 ہفتوں کا چھوٹا دورہ ہے لیکن کھلاڑی اس سے یقینی طور پر سیکھیں گے کہ کس طرح سنگلز لینا ہے اور اسپن بولنگ پر کس طرح برتری حاصل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یونس خان ایک باصلاحیت فیلڈر بھی تھا، مجھے امید ہے کہ اس شعبہ میں بھی وہ مصباح الحق کی بہت مدد کرے گا۔ رمیز راجہ نے اسپن بولنگ کوچ مشتاق احمد کی پاکستان کیلئے کھیلے جانے والے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کا بہترین کردار ہے جو ٹیم میں توانائی پیدا کرتا ہے، وہ بہت سیدھا سادہ فرد ہے لیکن وہ کبھی بھی چیلنجوں سے نہیں ڈرتا ۔ انہوں نے کہا کہ یونس خان کی طرح وہ بھی ماحول کو بہتر بنائے گا۔ اپنے اس نئے کوچنگ ذمہ داری سے پہلے وہ اس سرکٹ میں موجود رہے ہیں۔ لہٰذا وہ ڈریسنگ روم کے ماحول کے تقاضوں اور اس کو بہتر بنانے کے طریقوں سے بخوبی واقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشتاق کو پاکستان کے نوجوانوں کے لئے مشکل حالات میں بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔
یونس خان کو اپنے موڈ کی تبدیلیوں پر قابو رکھنا ہوگا،رمیز راجا
القمر
