نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے اسرائیل کے امریکی حمایت یافتہ اس منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے کئی فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کیا جائے گا۔ 50غیر جانبدار ماہرین نے اس اسرائیلی منصوبے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے دیگر ممالک سے اس کی مخالفت کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان ماہرین کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی بھی منصوبہ ناصرف اقوام متحدہ کی قراردادوں بلکہ جنیوا کنونشنز کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں اور بعض عرب ممالک میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے، کیوں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ یکم جولائی کو مغربی کنارے کے تقریباً 30 فیصد حصے کو اسرائیل میں ضم کر لیں گے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر اس فیصلے پر عمل ہو گیا تو یہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم کے لیے ان کی 21 سالہ حکمرانی کے دوران ایک کڑا امتحان ہو گا۔ اردن علاقے میں امن کے حوالے سے اسرائیل کا اہم شریک ہے اور اس قسم کے اسرائیلی اقدام سے اردنی آبادی میں ایک شدید ردعمل کا امکان ہے اور یہ دو ریاستی حل کے منصوبے کے خاتمے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ شاہ عبداللہ دوم بھی دو ریاستی حل کے بڑے حامی رہے ہیں، تاکہ عشروں سے جاری اسرائیلی فلسطینی تنازع کے حل کو کسی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ جہاں تک خود فلسطینیوں کا تعلق ہے، انہوں نے اسرائیلی منصوبے کی سخت مذمت کی ہے اور بین الااقوامی برداری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف تعزیرات عائد کرے اور فلسطین کو دو طرفہ بنیاد پر ایک ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر لے۔ اسرائیل نے پہلے ہی 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سے اردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ان میں اسرائیلی نوآبادیاں اور وہ علاقے شامل ہیں جن میں بیشتر فلسطینی آباد ہیں۔
اسرائیلی توسیعی منصوبہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے،ماہرین
القمر
