English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ہمسایہ ملک سے کشیدگی عروج پر،شمالی کوریا نے رابطہ دفتر اڑادیا

القمر

سیؤل: شمالی کوریا نے جنوبی کوریا سے متصل سرحد پر قائم سفارت خانے کو بم سے اڑا دیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کے سرحدی شہر کائے سونگ میں واقع عمارت دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا دفتر تھا، جسے شمالی کوریائی فوج نے بم سے اڑایا۔ جنوبی کوریا میں تحریک پسندوں کی طرف سے مخالفت پر مبنی کچھ پمفلٹ شمالی کوریا میں گرانے پر دونوں ممالک کے درمیان پیدا کشیدگی پیدا ہوئی ہے، جس کے بعد دونوں نے رابطہ دفاتر بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ان پمفلٹس میں شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اس کے جوہری عزائم سے عوام کو خبردار کیا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریائی حکومت نے امریکی پابندیوں کے بعد مشترکہ اقتصادی منصبوبوں کی معطلی پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے سرحدی علاقے میں راکٹ داغا، تاکہ اس سے دیگر ممالک کو بھی پیغام پہنچ سکے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ دفتر کو دراصل سفارت خانے کی حیثیت حاصل تھی۔ یہ عمارت کورونا کی وبا کے باعث جنوری سے بند پڑی تھی۔ یاد رہے کہ 9 جون کو شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کو دشمن قرار دیتے ہوئے تمام مواصلاتی رابطے ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کورونا پابندیوں کی وجہ سے رابطہ دفتر جنوری میں عارضی طور پر بند کیا گیا تھا، تاہم فون کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین رابطے جاری تھے۔ جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ ایک بلیک اینڈ وائٹ وڈیو میں ایک زوردار دھماکے سے 4 منزلہ عمارت کو گراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس ضمن میں جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں کہا گیا کہ اگر شمالی کوریا کشیدگی بڑھاتا رہا تو جنوبی کوریا سخت جواب دے گا۔ نائب قومی سلامتی کے مشیر کم یو جیون نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ دفتر کی تباہی سے ان تمام لوگوں کی توقعات ٹوٹ گئیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور دیرپا امن کی امید رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم واضح کر رہے ہیں کہ اس کے نتیجے میں پیش آنے والے تمام نتائج کی شمالی کوریا پر پوری طرح سے ذمے داری عائد ہوگی۔ جنوبی کوریا کے ایک فوجی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ اس بات کی اطلاعات تھیں کہ شمالی کوریا عمارت کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور جنوبی کوریا کے عسکری حکام نے عمارت کو تباہ کیے جانے کے مناظر براہ راست دیکھے ہیں۔ کشیدگی کے باعث اس کارروائی سے قبل ہی جنوبی کوریا نے دونوں ممالک کے درمیان زمینی راستے بند کرکے سرحد پر فوج کی موجودگی اور گشت میں اضافہ کردیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے