واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جرمنی میں تعینات امریکی فوج کی تعداد میں کمی کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جرمن حکومت نیٹو کے تحت اپنی مالی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے اور امریکا کے ساتھ تجارت میں بھی جرمنی کا رویہ درست نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر کے 25ہزار کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ جرمنی میں امریکا کے ساڑھے 34 ہزار فوجی تعینات ہیں اور ساڑھے 9 ہزار کم کرنے کے بعد ان کی تعداد 25 ہزار رہ جائے گی۔ وائٹ ہاوس میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم جرمنی کی حفاظت کر رہے ہیں اور وہ اپنی ذمے داریوں سے غفلت برت رہا ہے۔ یہ تو مناسب بات نہیں ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ فوج کی تعیناتی پر کافی خرچ آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی نے اپنی مجموعی قومی پیداوار کا 2 فیصد حصہ نیٹو کو دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ اسے پورا نہیں کر رہا۔ نیٹو کے رکن ممالک نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 2024ء تک 2 فیصد رقم نیٹو کو دیں گے۔ جرمنی کا کہنا ہے کہ اسے 2031ء تک اس ہدف تک پہنچ جانے کی امید ہے۔ ٹرمپ ایک عرصے سے شکایت کرتے رہے ہیں کہ امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر آنے والے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے میزبان ممالک اپنا حصہ ادا نہیں کر رہے اور امریکی صدر کے مطابق جرمنی اس معاملے میں سب سے بڑا قصور وار ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جرمنی جب تک خرچ کے اپنے ہدف کو پورا نہیں کرتا امریکا وہاں سے اپنی فوج کی تعداد کم کر دے گا۔ جرمنی سے امریکی فوج کے جزوی انخلا کے اعلان نے یورپی اتحادیوں اور خود مغربی فوجی اتحاد کے اندر طویل المدتی تعاون کے معاہدوں کے حوالے سے امریکی وعدوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
جرمنی سے 9500 امریکی فوجی نکالنے کی منظوری
القمر
