English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت میں 2 ماہ سے قید مسلمان طالبہ کی رہائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی 2 ماہ سے قید طالبہ کی رہائی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق شہریت کے ترمیمی قانون سی اے اے کی مخالفت کی تحریک میں پیش پیش رہنے والی صفورہ زرگر کی رہائی کے لیے بھارت سے لے کر امریکا تک آواز اٹھنے لگی ہے۔ انہیں 10 اپریل کو سی اے اے مخالف احتجاج کے دوران ایک سڑک بند کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد عدالت سے فوراً ہی ضمانت مل گئی تھی، تاہم پولیس نے تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے اسی روز انہیں انتہائی خطرناک قانون یو اے پی اے کے تحت دہلی فسادات کے سلسلے میں گرفتار کر لیا تھا۔ بنگلور کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ کے 66 ارکان نے ایک بیان جاری کرکے صفورہ زرگر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے جیل میں بند دیگر افراد کی بھی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صفورہ اور دیگر طلبہ کورونا وائرس کے عروج کے وقت انتہائی بھیڑ والی تہاڑ جیل میں بند ہیں جب کہ دہلی میں تشدد بھڑکانے والے ایک مرکزی وزیر سمیت دیگر ذمے داران آزاد گھوم رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکن بار ایسوسی ایشن میں انسانی حقوق کے ایک ادارے سینٹر فار ہیومن رائٹس نے بھی صفورہ کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صفورہ کی گرفتاری بین الاقوامی معاہدوں کے منافی ہے جب کہ بھارت ان معاہدوں کا حصہ ہے۔ واضح رہے کہ امریکن بار ایسوسی ایشن امریکا میں وکلا اور قانون کے طلبہ کی سب سے پرانی اور بڑی تنظیم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے