طرابلس (رپورٹ: منیب حسین) ترکی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جنگ زدہ ملک شمالی افریقی لیبیا کا دورہ کیا ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب روس، متحدہ عرب امارات، مصر اور فرانس سمیت کئی مغربی ممالک کی حمایت یافتہ لیبیا کی باغی حفتر ملیشیا کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قومی وفاق حکومت کے ہاتھوں اہم ترین محاذوں پر شکست کھانی پڑی ہے۔ اس جنگی پیش رفت کے باعث ترکی اور روس میں بھی تناؤ بڑھ رہا ہے، کیوں کہ ترکی کی تمام تر سیاسی اور عسکری معاونت قومی وفاق حکومت کو حاصل ہے۔ بدھ کے روز لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پہنچنے والے تُرک وفد میں وزیر خارجہ مولود چاوش اولو، وزیر خزانہ بیرات البیرق، انٹیلی جنس چیف ہاکان فیدان اور صدارتی ترجمان ابراہیم قالن سمیت تُرک حکومت اور صدارت کے مشیر اور اعلیٰ حکام شامل تھے۔ اس وفد نے قومی وفاق حکومت کے وزیراعظم فائز سراج کے ساتھ مذاکرات کیے۔ تُرک ذرائع ابلاغ کے مطابق اس دوران دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ الجزیرہ کے مطابق یہ اچانک دورہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے دورۂ انقرہ کو مؤخر کیے جانے کے بعد کیاگیا ہے، کیوں کہ دونوں ممالک کے درمیان لیبیا کے مسئلے پر تناؤ بڑھتا جارہا ہے۔ ساتھ ہی اٹلی کے وزیراعظم نے بھی اپنا ترکی کا دورہ منسوخ کردیا ہے۔ جب کہ لیبیا کے بحران پر فرانس کھل کر ترکی کے مقابل آگیا ہے۔ فرانس نے ترکی سے متعلق سخت بیان دیا ہے، جس پر ترکی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ فرانس لیبیا میں غیرقانونی کاروائیاں کر تے ہوئے بعض ممالک کے لیے ٹھیکے داری کا کام کر رہا ہے۔ تُرک دفتر خارجہ کے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ لیبیا کی آئینی حکومت کا تختہ الٹتے کی کوشش میں مصروف باغی جنرل خلیفہ حفتر کے ساتھ فرانس کے تعاون نے لیبیا کے بحران کو مزید طول دیا ہے۔
ترکی کا اعلیٰ سطحی وفد لیبیا پہنچ گیا،روس سے تنائو شدید
القمر
