مقبوضہ بیت المقدس(انٹرنیشنل ڈیسک) مشرق وسطیٰ کے لیے امریکا کے سابق مندوب اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی دوست جیسن گرین بیلٹ نے کہا ہے کہ دریائے اردن کا مغربی کنارا اسرائیل کا حصہ ہے، اس کے لیے مقبوضہ فلسطینی اراضی کا لفظ استعمال کرنا غلط ہے۔ وہ اس اصطلاح کے سخت خلاف ہیں۔ یہ اصطلاح استعمال کرنے والے اسرائیل کو اس کے حق سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائیلی اخبار اسرائیل ٹوڈے میں اپنے ایک مضمون میں گرین بیلٹ کا کہنا تھا کہ غرب اردن کا علاقہ فلسطینی سرزمین کا حصہ نہیں، بلکہ اسرائیل کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غرب اردن کے معاملے پر براہ راست فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ غرب اردن کا اسرائیل سے الحاق آئین اور قانون کی رو سے درست ہے۔ اسرائیل کی منتخب عوامی حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ غرب اردن کو اسرائیل کا حصہ بنانے کے اقدامات کرے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے یکم جولائی سے غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل غرب اردن کے 30 فیصد علاقوں کو صہیونی ریاست میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کے اعلان پرعمل یکم جولائی سے شروع ہوگا اور مرحلہ وار اس اعلان پرعمل کیا جائے گا۔ اسرائیلی ریزرو فورس کے افسران کے ایک وفد سے ملاقات میں نیتن یاہو نے کہا کہ وہ غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کے اعلان پر قائم ہیں۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے غرب اردن کے الحاق کے اعلان پر مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکا بھی غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کے مرحلہ وار پروگرام کوآگے بڑھانے کا حامی ہے۔ دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے سیاسی شعبے کے نائب صدر صالح العاروری نے کہا ہے کہ غرب اردن پر اسرائیل قبضے اور الحاق کے پروگرام کو ناکام بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل کا استعمال کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس نے غرب اردن کا الحاق روکنے کے لیے 3 محاذوں پرکام کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں غزہ، مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس میں اسرائیل مخالف سرگرمیاں بڑھانا ہوگی۔
امریکی ایلچی نے عرب اردن کو اسرائیل کا حصہ قرار دے دیا
القمر
