English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

دنیا بھر میں جبراً بے گھر افراد کی تعداد 8 کروڑ ہوگئی

القمر

جنیوا (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 8 کروڑ افراد یعنی کرۂ ارض کی آبادی کا ایک فیصد سے زائد حصہ پُرتشدد کارروائیوں اور جبر کے باعث اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو کر دور دراز مقامات پر زندگی گزار رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہگزشتہ ایک دہائی کے اندر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ہائی کمیشن نے جمعرات کے روز اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 2019ء کے اختتام پر 7.95 کروڑ افراد ایسے تھے، جو پناہ گزیں، پناہ کے متلاشی یا پھر اپنے ہی ممالک میں نقل مکانی کر کے بے گھر ہو چکے تھے۔ ان افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کے مواقع بھی کم ہو گئے ہیں۔ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلپو گرانڈی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں بتایا کہ دنیا کی ایک فیصد آبادی جنگوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور تشدد کی دیگر صورتوں کے سبب اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکتی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایسے بحرانوں کے روکنے کے لیے سیاسی حل کافی نہیں، جن کے نتیجے میں لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہو جاتے ہیں اور پھر واپس نہیں آ پاتے۔ گرانڈی کا کہنا تھا کہ 10برس قبل بے گھر افراد کی تعداد 4 کروڑ تھی، جو ایک دہائی کے اندر دو گنی ہو گئی ہے اور ہمارے نزدیک یہ رجحان سست نہیں پڑے گا۔ پناہ گزینوں کے ہائی کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 4 کروڑ 57 لاکھ افراد اپنے ممالک میں ہی دیگر علاقوں کی جانب فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔ 2 کروڑ 60 لاکھ پناہ گزین اپنے ممالک کی سرحدوں سے باہر مقیم ہیں اور 4کروڑ 20لاکھ افراد پناہ کے متلاشیہیں۔ گرانڈی نے بتایا کہ عالمی برادی منقسم ہے، جس کے سبب وہ امن کو یقینی بنانے کی قدرت نہیں رکھتی۔ لہٰذا صورت حال مزید ابتر ہو گی اور مجھے اندیشہ ہے کہ آنے والا سال رواں برس سے زیادہ برا ثابت ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے