English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد 8600 کردی گئی

القمر

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کینتھ میکنزی کا کہنا ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان طے پائے معاہدے کے تحت افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد 8600 کر دی گئی ہے۔ جمعرات کے روز واشنگٹن میں قائم ایک غیر سرکاری تھنک ٹینک ایسپن انسٹیٹیوٹ میں ایک مباحثے کے دوران جنرل میکنزی نے کہا کہ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم نے معاہدے کے تحت اپنی ذمے داری پوری کر دی ہے۔ جنرل میکنزی کا کہنا تھا کہ امریکا نے دوحہ معاہدے کے بعد 135 روز کے اندر اپنی فوج کی تعداد کو 8600 کی سطح پر لانا تھا اور وہ اپنی فوج کی تعداد کو کم کر کے اس سطح پر لے آئے ہیں۔ امن معاہدے سے قبل افغانستان میں 12 ہزار امریکی فوجی تعینات تھے، جن کی مرحلہ وار واپسی پر اتفاق ہوا تھا۔ اس معاہدے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ اگر طالبان معاہدے کے شرائط پر پوری طرح کاربند رہتے ہیں، تو امریکا مئی 2021ء تک افغانستان سے اپنی فوج نکال لے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا طالبان معاہدے کے تحت مئی 2021ء تک افغانستان سے امریکی فوج کا مکمل انخلا مکمل ہونا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ امریکا اس عزم پر قائم ہے، لیکن اس کا انحصار طالبان کی سنجیدگی پر ہے۔ جنرل میکنزی نے کہا کہ امریکی فوج کا مکمل انخلا اس وقت ہو گا جب حالات سازگار ہوں گے۔ جنرل میکنزی کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کے لیے یہ اطمینان ضروری ہے کہ اس کے خلاف افغانستان سے کوئی حملے نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ طالبان داعش کے دوست نہیں ہیں، تاہم ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ القاعدہ کے خلاف طالبان کیا کریں گے اور ہم باتیں نہیں بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ یادر ہے کہ اس معاہدے کے تحت طالبان نے یہ ضمانت دی تھی کہ ان کے زیراثر علاقوں میں کسی بھی ایسے شدت پسند گروہ کو منظم ہونے کی اجازت نہیں ہوگی جو امریکا یا اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے