بیجنگ ( خبرایجنسیاں)چین کا کہنا ہے کہ گلوان کاپورا علاقہ ہمارا ہے، بھارتی دراندازی اور اشتعال انگیزی نے ہمیں کارروائی پر مجبور کیا،وادی میں جو کچھ ہوا اس کی ذمے دار بھارتی فوج ہے۔ہفتے کو ترجمان چینی وزارت خارجہ ژاؤ لی جیان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ چین کی تحویل میں اب کوئی بھارتی فوجی نہیں ہے، دونوں ملک فوجی اور سفارتی ذرائع کے ذریعے بات چیت کر رہے ہیں اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔چینی وزارت خارجہ نے تصادم میں بھارتی فوجیوں کے مارے جانے سے قبل کے حالات و واقعات کی مکمل تفصیل بھی جاری کردی ہے۔ترجمان چینی وزارت خارجہ کے مطابق لداخ کی گلوان وادی حقیقی لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) کے چینی حصے میں واقع ہے جہاں چینی فوج کئی سال سے گشت کرتی آرہی ہیں۔ ترجمان کے مطابق بھارت نے حقیقی لائن آف کنٹرول کا اسٹیٹس بدلنے کے لیے اشتعال انگیز اقدامات اپریل میں شروع کیے، یکطرفہ طور پر گلوان وادی میں سڑکوں اور پلوں کی تعمیرات شروع کی گئیں۔6 مئی کی رات بھارتی فورسز کنٹرول لائن پار کرکے چینی علاقے میں گھسیں، جہاں چوکیاں اور رکاوٹیں کھڑی کرکے چینی فوج کے گشت کا راستہ روکا گیا،سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی فورسز نے 15جون کو ایل اے سی کو دانستہ طور پر عبور کیا اور بات چیت کے لیے جانے والے چینی افسروں اور اہل کاروں پر بلا اشتعال حملہ کیا جس سے جھڑپ کا آغاز ہوا۔دوسری جانب لداخ میں چین کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے ملک کے ریٹائرڈ فوجی افسران، سیاست دانوں اور عوام کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔(مودی نے گلوان وادی میں شکست تسلیم کرلی) کا ہیش ٹیگ سے ٹرینڈ چلایا گیا جو ٹوئٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے بھی اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وزیر اعظم چینی جارحیت کے خلاف اپنے علاقوں سے دست بردار ہوگئے،اگر زمین چینیوں تھی تو ہمارے فوجی کیوں مارے گئے؟ وہ کہاں مارے گئے۔ بھارتی فوج کے متعدد سابق اعلیٰ افسران نے بھی گلوان وادی میں بھارت کو ہونے والی ہزیمت پر غصے اور مایوسی کا اظہار کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں کور کمانڈر اور بھارت کی جنوبی کمانڈ کے کمانڈر رہنے والے لیفٹیننٹ جنرل رامیشور رائے نے مودی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ آج انتہائی بدقسمت دن ہے۔ میں شکر ادا کرتا ہوں کے ریٹائرڈ ہوگیا اور میرا بیٹا فوج میں نہیں ہے۔بھارت کے ریٹائرڈ فوجی افسروں کی تنظیم کے چیئرمین میجر جنرل ستبیر سنگھ نے جنرل رامیشور کی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنرل رائے نے پھر بھی نرم الفاظ استعمال کیے ہیں، وزیر اعظم کے بیان نے مجھے وحشت زدہ کردیا ہے کہ اس سرحد پر دفاع کے لیے ساز و سامان ہی دست یاب نہیں۔
گلوان ہمارا ہے‘ بھارتی دراندازی نے کارروائی پر مجبور کیا‘ چین
القمر
