English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مصر کی فوجی مداخلت کو اعلان جنگ سمجھیں گے،لیبیا

القمر

طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت نے مصر کے فوجی صدر عبدالفتاح سیسی کی جانب سے لیبیا میں فوجی مداخلت کی دھمکی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے کسی بھی اقدام کو اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق لیبیا کی حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ لیبیا میں براہِ راست مداخلت دشمنی پر مبنی اقدام ہو گا۔ اگر مصر نے ایسا کچھ کیا تو اسے اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔ ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت لیبیا کی خود مختاری پر حملہ ہو گا۔ واضح رہے کہ 2روز قبل سیسی نے عندیہ دیا تھا کہ اگر لیبیا کی فوج نے اہمیت کے حامل شہر سرت کی جانب پیش قدمی کی تو مصر لیبیا میں براہِ راست فوجی مداخلت کردے گا۔ لیبی حکومت کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عبدالفتاح سیسی کی جانب سے ملک میں براہِ راست مداخلت یا باغی رہنما، مسلح ملیشیا یا کرائے کے فوجیوں کی حمایت کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ لیبیا کی صدارتی کونسل کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ خلیفہ حفتر کی حمایت کرنے والے ممالک ان کی شکست کے بعد اب سیاسی حل اور مذاکرات کی باتیں کر رہے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پورا لیبیا سرخ لکیر ہے۔ یہ لکیر بیانات سے نہیں بنائی جا سکتی، بلکہ یہ شہیدوں کے لہو سے بنتی ہے۔ لیبیا کے وزیر داخلہ فتحی باشاہا نے کہا کہ مصر کی سلامتی کو نقصان پہنچے یہ چیز ہمارے لیے ناقابل قبول ہے، لیکن بات اپنے ملک کے دفاع کی ہو تو ہم جنگ کے لیے بھی تیار ہیں۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں فتحی باشاہا نے کہا کہ برادر ملک مصر کے حکام لیبیا اور مصر کے درمیان مشترکہ تاریخ، اعتقادات اور احترام کے رشتے کو بھول گئے ہیں۔ باشاہا نے کہا ہے کہ لیبیا کے عوام کے لیے ایک طرف مصر کی سلامتی کے لیے خطرہ بھی ناقابل قبول ہے، کیوں کہ یہ ایک ایسا راستہ ہے کہ جس سے واپسی دونوں میں سے کسی بھی ملک کے لیے ممکن نہیں ہو گی۔ لیبیا کے عوام امن کے خواہش مندوں کے ساتھ امن کے لیے تیار ہیں۔ تاہم حملے کی نیت سے نہیں، بلکہ اپنے ملک کے دفاع کی خاطر جنگ کے لیے بھی تیار ہیں۔ ادھر ترکی کے نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے مصری صدر کے بیان کی حمایت کی ہے۔ جب کہ اردنی وزارتِ خارجہ نے بھی قاہرہ کے اقدامات کے حق میں بیان جاری کیا ہے۔ دوسری جانب اسی تناظر میں لیبیا کے وزیر اعظم فائز سراج نے فوج سے منسلک سرت جفرہ کمبائنڈ آپریشن ڈپارٹمنٹ کے کمانڈر بریگیڈیر جنرل ابراہیم احمد بیت المال کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ حکومتی بیان کے مطابق سراج اور بیت المال کے درمیان سرت اور جفرہ میں جاری فوجی کارروائیوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اختیار کردہ تدابیر پر بات ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے