ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روس میں صدر ولادیمیر پیوٹن کو طویل مدت تک صدر برقرار رکھنے کے لیے مجوزہ آئینی ترمیم پر ریفرنڈم شروع ہوگیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق رائے دہی کا عمل ایک ہفتے تک جاری رہے گا۔ صدر پیوٹن نے ملکی آئین میں وسیع تر ترامیم کی تجویز پیش کر رکھی ہے، جس سے ان کے 2036 ء تک اقتدار میں رہنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ریفرنڈم جنوری میں ہونا تھا، تاہم وبا کے باعث اسے ملتوی کر دیا گیا۔ آئینی ترامیم میں سماجی سطح پر اصلاحات اور صدارتی اختیارات میں وسعت پر زور دیا گیا ہے۔ عملی طور پر ان ترامیم کی دونوں ایوانوں اور ملکی آئینی عدالت سے منظوری پہلے ہی ہو چکی ہے اور اب پولنگ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، تاہم صد پیوٹن کا اصرار ہیں کہ ان پر عوام کی رائے بھی لی جائے۔ خبررساں اداروں کے مطابق صدر پیوٹن کو ماضی کے مقابلے میں اپنی مقبولیت میں کمی کے باوجود آج بھی بڑی تعداد میں شہریوں کی حمایت حاصل ہے۔ روس کے موجودہ قانون کے مطابق صدر پیوٹن کو اپنی دوسری 6سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد 2024 ء میں صدارتی عہدے سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ صدر پیوٹن آئین میں ترمیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ انہیں بطور صدر مزید 2مدتوں کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کی قانونی اجازت مل سکے۔ اگرچہ پیوٹن کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے کا ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم آئینی ترمیم کے ذریعے ان کے عزائم واضح ہیں۔ اس وقت تک پیوٹن کی عمر 83 برس ہے۔ روس میں صدارتی نظام کے تحت صدر کو پہلے ہی وسیع تر اختیارات حاصل ہوتے ہیں،تاہم مجوزہ تبدیلیاں ان اختیارات میں مزید اضافہ کریں گی۔ آئینی ترامیم کے تحت صدر عام معاملات میں حکومت کو ہدایت دے سکیں گے اور انہیں اپنی مرضی کا وزیراعظم تعینات کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
روس میں پیوٹن کے اقتدار کو طول دینے کیلئے ریفرنڈم
القمر
