نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے کچھ حصوں کو ضم کرنے کے اعلان پر یکم جولائی سے عمل شروع ہوگا۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے انتباہ دیا ہے کہ انضمام سے متعلق منصوبہ اسرائیل فلسطین مسئلے کے حوالے سے ایک نازک موڑ کی حیثیت اختیار کرلے گا۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ عمل کی صورت میں انضمام کی کارروائی بین الاقوامی قانون کی نہایت سنگین خلاف ورزی ہوگی اور اس سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت سے کہا کہ وہ انضمام کی اپنے منصوبے کو ترک کردے۔ انہوں نے دہائیوں پرانے دو ریاستی حل جس کے ذریعے آزاد خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام اور مقبوضہ بیت المقدس دونوں ریاستوں کا دارالحکومت بنانے کے ہدف پر زور دیا۔ اس موقع پر عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کہا کہ انضمام سے مستقبل میں امن کے امکانات ختم ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو ضم کرنے کے ممکنہ اقدام پر عمل سے علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ جب کہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار نکولے ملادینوف نے کہا کہ انضمام اسرائیل فلسطینی تعلقات کی نوعیت کو غیر منطقی طور پر تبدیل کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے اسرائیل کے ساتھ امن، سلامتی اور باہمی اعتراف میں رہنے والی مستقبل کی قابل عمل فلسطینی ریاست کی حمایت میں بین الاقوامی کوششوں کے خاتمے کا خطرہ ہے۔ دوسری جانب ترکی نے اسرائیل سے یہ منصوبہ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس منصوبے سے متعلق ایک خط بھیجا۔ انہوں نے اپنے خط میں اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کی سرعام خلاف ورزی قرار دیا۔ اولو نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان غیرقانونی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ رکوائے۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کی حیثیت بدلنے کی کوشش، فلسطینیوں کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال اور غیر انسانی ناکابندی سے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق اور آزادی کو نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیل فلسطین تنازع نازک ترین موڑ پر آگیا،اقوام متحدہ
القمر
