لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و صدر قائمہ کمیٹی برائے سیاسی امور لیاقت بلوچ نے اپنے ایک بیان کہاہے کہ وزیر اعظم جب بھی خطاب کرتے ہیں تنازعات اور فساد کا نیاباب کھول دیتے ہیں۔عمران سرکار کا پورا دارومدارکنفیوژن پر ہے ۔2سال گزرگئے ،حکومت کی سماجی ،اقتصادی انتظامی اور کشمیر پالیسی ہی نہیں بن سکی۔حکومت مخالفین سے فروعی اور بے بنیاد امور پر الجھے گی تو عوام کا اللہ ہی حافظ ہے ۔بلاول زرداری اور خواجہ آصف نے وزیر اعظم کو مناظرے کا چیلنج دیا ہے اگر قومی اسمبلی ،سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس ٹھیک طریقے سے ہوں تو کہیں اور مناظرے کی ضرورت نہ رہے گی ۔پارلیمانی نظام ،جمہوری قدروں کو نظر انداز کرنے کا انجام خطرناک منزل کی طرف بڑھ رہا ہے ۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ بجٹ منظوری کے مراحل تک پہنچ گیا ہے لیکن وفاق ،پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ملازمین تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن میں اضافہ نہیں کیا گیا۔مہنگائی ،بے روز گاری ،افراط زر ،قوت خرید کے خاتمے کے خلاف ملک بھر میں مزدور اور نوجوان سراپا احتجاج ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملازمین اور پنشنرز کے معاوضے میں 20فیصد اضافہ کیا جائے ۔وفاقی حکومت پاکستان اسٹیل مل کی نجکاری کا پروگرام ختم کرے اور قومی ادارے کو بحال کرنے کا منصوبہ بنائے ۔دریں اثنا لیاقت بلوچ نے جامعہ نعیمیہ میں علامہ راغب نعیمی کے ساتھ ان کے تایا اور سسرکی وفات پرتعزیت اور دعائے مغفرت کی ۔اس موقع پر ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ ورانہ جذبات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔اس ضرورت پرزور دیا گیا کہ تمام دینی جماعتیں ،دینی مراکز اور علما و مشائخ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔
وزیراعظم جب بھی خطاب کرتے ہیں فساد کا نیا باب کھول دیتے ہیں،لیاقت بلوچ
القمر
