واشنگٹن —
مصر، سوڈان اور ایتھوپیا کے لیڈروں نے نیل کے دریا پر بننے والے ڈیم کے بارے میں مذاکرات کرنے اور اس کے حل کے بارے میں رضامندی ظاہر کی ہے۔
ایسو سی ایٹیڈ پریس کے مطابق، ایتھوپیا جس ڈیم کو بنانے کا منصوبہ بنا رہا تھا، اس پر ایک عرصے تک تین ملکوں کے درمیان تنازعہ چل رہا تھا۔ ایتھوپیا، مصر اور سوڈان کی جانب سے ایک مشترکہ بیان جاری ہوا ہے جس میں اس مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔
آج ہفتے کے روز ایتھوہیا کے پانی اور توانائی کے وزیر سیلشی بیکلے نے تصدیق کی ہے کہ افریقی یونین کے سربراہی اجلاس میں متعلقہ تینوں ملکوں نے اتفاق کیا ہے کہ اگلے دو تین ہفتوں میں اس ڈیم کے بارے میں بات چیت کا ایک بار پھر آغاز کیا جائے گا؛ اور اس سلسلے میں افریقی یونین ان مذاکرات کے انعقاد کے لیے ہر ممکن مدد دے گی۔
بیکلے نے وی او اے سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کا چاہے جو نتیجہ نکلے، ایتھوپیا اگلے ماہ اس بند کی بھرائی کا کام شروع کر دے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھرائی کا انحصار مذاکرات پر نہیں بلکہ اس منصوبے کی تعمیراتی پیش رفت پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بند تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ کوئی ملک ایک آزاد اور خود مختار ملک پر اپنی مرضی ٹھونس نہیں سکتا۔
چار اعشاریہ چھ بلین ڈالر کی لاگت والے اس بند کی تعمیر سے دریائے نیل کے ساتھ آباد مصر اور سوڈان کو کئی اعتراضات رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ جب تک تینوں ملکوں کے درمیان کوئی سمجھوتہ نہیں ہو جاتا، اس وقت تک ایتھوپیا اس بند کی بھرائی کے کام کو روک دے۔
ایتھوپیا کا موقف ہے کہ یہ ڈیم ملک کی شہ رگ ہے اور اس کے ذریعے ایتھوپیا کے لاکھوں عوام کو غربت سے نجات ملے گی۔
دریائے نیل مصر کی پانی کی نوے فیصد ضروریات پوری کرتا ہے۔ اور اگر یہ ڈیم بن جاتا ہے تو اس کی دس کروڑ آبادی متاثر ہو گی۔ سوڈان بھی نیل کے پانی سے مستفید ہوتا ہے۔ تاہم، اس نے ایتھوپیا اور مصر کے درمیان مصالحت کرانے کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس سے پیشتر امریکہ نے ثالثی کی کوشش کی تھی، لیکن فروری میں دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے۔
پچھلے جمعہ کو افریقی یونین کی سربراہی کانفرنس ویڈیو لنک پر منعقد ہوئی تھی، جس کی صدارت جنوبی افریقہ نے کی تھی۔ مصر کے صدارتی ترجمان بسام رضی نے کہا تھا کہ صدر السسی چاہتے ہیں کہ تمام فریق یہ وعدہ کریں کہ وہ کوئی یک طرفہ قدم نہیں اٹھائیں گے۔ اور کسی اتفاق رائے کے بغیر ڈیم کی بھرائی نہیں کی جائے گی۔
افریقی یونین کمیشن کے چیرمین موسیٰ فاقی مہمنت نے بغیر کسی وضاحت کے کہا تھا کہ افریقی یونین کے زیر قیادت تمام ملک کہنہ مسائل کو حل کرنے لیے رضامند ہیں۔
مصر اور سوڈان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کی تھی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور برسوں پرانے جھگڑے کو کسی بڑے بحران کی شکل اختیار نہ ہونے دے۔ پیر کو کونسل اس کے بارے میں ایک عوامی میٹنگ کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس وقت بظاہر اس تنازعے کا حل تینوں ملکوں کے درمیان مذاکرات میں مضمر ہے۔ بصورت دیگر ایتھوپیا اور مصر ایک دوسرے خلاف فوجی اقدامات بھی اٹھا سکتے ہیں۔
