English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت مقبوضہ کشمیرکے عوام کے حقوق بحال کرے، امریکی صدارتی امیدوار

القمر

 

واشنگٹن(خبر ایجنسیاں) امریکا کے صدارتی امیدوار اور سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقوق بحال کرے اور ساتھ ہی حالیہ آئینی ترمیم پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جس میں خصوصاً مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔حال ہی میں اپنی مہماتی ویب سائٹ پر شائع کردہ ایک پالیسی پیپر ‘مسلم امریکی برادری کا ایجنڈا’ میں جوبائیڈن نے مغربی چین میں 10 لاکھ سے زیادہ ایغور مسلمانوں کی جبری نظربندی
اور میانمار کے روہنگیا مسلمان کے خلاف امتیازی سلوک کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں کشمیر اور آسام کے مسئلے کو اٹھایا ہے۔نومبر میں صدر منتخب ہونے کی صورت میں جو بائیڈن نے اپنی پالیسیوں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں ہندوستانی حکومت کو کشمیریوں کے حقوق کی بحالی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنا چاہییں، پرامن احتجاج کو روکنا یا انٹرنیٹ بند کرنا یا انٹرنیٹ کو سست کرنا جبکہ اظہار رائے پر پابندیوں سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے۔پیپر میں کہا گیا کہ آسام میں شہریوں کے قومی رجسٹر پر عمل درآمد اور اس کے بعد کیے گئے اقدامات اور شہریت ترمیمی قانون کی منظوری جیسے اقدامات سے جو بائیڈن کو مایوسی ہوئی۔ مقالے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات ملک کی سیکولرازم کی طویل روایت اور پائیدار نسلی اور کثیر مذہبی جمہوری تشخص برقرار رکھنے سے متصادم ہیں۔پیپر میں مزید کہا گیا کہ مسلم اکثریتی اور اہم مسلمان آبادی والے ممالک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس بارے میں ہم مسلمان امریکیوں کے دکھ کو بھی سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مغربی چین میں 10 لاکھ سے زیادہ ایغور مسلمانوں کو نظربند کرنے کا کوئی جواز نہیں، صدر کی حیثیت سے جو بائیڈن سنکیانگ میں قید خانے کے کیمپوں کے خلاف بات کریں گے اور اس گھاؤنے جرم میں ملوث عوام اور کمپنیوں کا محاسبہ کریں گے، مزید برآں برما کے روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف منظم امتیازی سلوک اور مظالم نفرت انگیز ہیں اور اس سے امن و استحکام کو خطرے سے دوچار کیا جاتا ہے۔اس مقالے میں اعلان کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے بہت سارے عقائد کے لوگ سیاسی اور معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ اصولی امریکی سفارتکاری کی واپسی کے حامی ہیں تاکہ وقار، خوشحالی اور امن کی تلاش میں ان کی مدد کی جا سکے۔اسرائیل اور فلسطین تنازع کے حساس مسئلے سے خطاب کرتے ہوئے پالیسی مقالے میں کہا گیا کہ بحیثیت صدر بائیڈن اسرائیلیوں اور فلسطینیوں سے یکساں بات کرتے ہوئے امن، آزادی، سلامتی اور خوشحالی کے ساتھ مل کر رہنے کے راستے اور دو ریاستی حل کی تلاش میں مدد کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے